جمعہ کے لئے امام ماذون کی شرط اور عوام کی طرف سے امام کی تقرری
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک مسجد از میں قبل ویران تھی یعنی کبھی اذان ہوتی تھی اور کبھی نہیں ۔ ایک امام رکھا گیا ہے فی الوقت پانچ وقت کی نماز با جماعت ہوتی ہے اب کچھ آدمیوں کا خیال ہے کہ جمعہ قائم کر لیا جائے۔ از روئے شرع کیا حکم ہے؟ مطلع فرمائیں ۔ المستفتی محمدنقو صاحب ،عبداللہ،خورشید اللہ رکھے وغیرہ وغیرہ
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: جمعہ کے لئے ماذون امام شرط ہے۔ در مختار میں ہے: وو و نصب العامة الخطيب غير معتبر مع وجود من ذكر اما مع عدمهم فيجوز للضرورة اگر وہ امام ماذون ہے تو وہاں جمعہ قائم کر لیں ورنہ حضور مفتی اعظم ہند دام ظلہ الاقدس سے اجازت حاصل کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۸۸–۳۸۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
وہابی امام کے پیچھے نماز پڑھانے پر متولی کا اصرار اور سنی عالم کو نکالنے پر شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ایک ہی مسجد میں دوسری جماعت کے جواز اور صف بدلنے کا طریقہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
بد مذہبوں کو برحق جاننے والا اقراری بد مذہب ہے، لائق امامت نہیں ! بد عقیدوں کے پیچھے نماز نہیں!
باب: کتاب الصلوٰۃ
داڑھی منڈا یا قرآن غلط پڑھنے والا امامت کا اہل نہیں ! ایسوں کو امام بنانے والے سخت گنہ گار ہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
زمانہ ماضیہ کے گناہوں کی وجہ سے بعد تو بہ امامت سے روکا نہ جائیگا ! تو بہ کے بعد اس گناہ سے عار دلانا جائز نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ