ایک ہی مسجد میں دوسری جماعت کے جواز اور صف بدلنے کا طریقہ
سوال
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ: ایک مسجد میں مکمل طور پر پیش امام صاحب رہتے ہیں اور جماعت کے ساتھ پیش امام صاحب نماز بھی پڑھاتے ہیں اس کے آدھے گھنٹے کے بعد پھر نماز جماعت کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے۔ یعنی کہ ایک ہی مسجد میں دومرتبہ نماز جماعت سے پڑھائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ یہ بات جائز ہے یا نا جائز ؟ المستفتی: محمد عالم صاحب،سول بازار ضلع گورکھپور (یوپی)
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: صف بدل کر کے بلا اذ ان کے پڑھی جاسکتی ہے، اس صف پر جس پر جماعت اولی ہوئی، نہ پڑھی جائے اور صف بدلنا یہ ہے کہ اس جگہ سے ہٹ جائے جس پر پہلے امام نے نماز پڑھائی ہو۔ واللہ تعالی اعلم ۔ اور مسئلہ میں غایت تفصیل ہے جس کے لئے ”القطوف الدانیہ مصنفہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ دیکھیں۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۸۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
جمعہ کے لئے امام ماذون کی شرط اور عوام کی طرف سے امام کی تقرری
باب: کتاب الصلوٰۃ
داڑھی منڈا یا قرآن غلط پڑھنے والا امامت کا اہل نہیں ! ایسوں کو امام بنانے والے سخت گنہ گار ہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
وہابی امام کے پیچھے نماز پڑھانے پر متولی کا اصرار اور سنی عالم کو نکالنے پر شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
مصلی امامت پر فائز ہونے کے لئے غلط اقدام فسق اور امام کے پیچھے پڑنا جرم عظیم ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ
بد مذہبوں کو برحق جاننے والا اقراری بد مذہب ہے، لائق امامت نہیں ! بد عقیدوں کے پیچھے نماز نہیں!
باب: کتاب الصلوٰۃ