مصلی امامت پر فائز ہونے کے لئے غلط اقدام فسق اور امام کے پیچھے پڑنا جرم عظیم ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ: زید مسجد میں داخل ہوا اور نماز کی نیت کر کے کھڑا ہو گیا۔ ابھی صرف ایک رکعت ہی پڑھ پایا تھا کہ بکر نے دھکہ دے کر مسجد سے زید کو باہر کر دیا اور زدوکوب بھی کیا۔ بکر مسجد کی امامت بھی کرتا ہے۔ بکر بزعم خود امامت کا خواہشمند رہتا ہے اور صاحب حیثیت بھی ہے مسجد میں اگر کثرت رائے سے کسی سنی صحیح العقیدہ عالم یا حافظ کو رکھا بھی جائے تو بکر مختلف حیلہ و بہانے سے امام کو رخصت کرا دیتا ہے۔ یعنی طویل المدت کسی امام کو رہنے ہی نہیں دیتا محض اس لئے کہ جگہ خالی ملے تو خود مصلی امامت پر فائز ہو۔ جواب باصواب سے نوازیں۔ المستنقی : جھگڑر ومیاں محمد صہیب میاں ساکن مواں، پوسٹ چکواں، جانگواں، مظفر پور
نمبر کا یہ عمل نہایت منیع وقیح ہے، تو یہ کرے اور جس کو زدوکوب کیا ، اس سے معافی چاہے، جب تک تو بہ نہ کرے اور صاحب حق سے حق معاف نہ کرالے ، وہ امامت کا مستحق نہیں۔ اس کی اقتدا نا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله