اذان، اقامت، نماز جنازہ، ابلیس و وہابیہ اور صلوۃ و سلام کے متعلق اجمالی جواب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہمارے گاؤں کی مسجد میں دو سال سے ایک امام صاحب قصبہ رہا سو کے رہنے والے نماز پڑھاتے ہیں ، ان امام صاحب سے پہلے ہمارے گاؤں کی اس مسجد میں کوئی امام نہیں تھا، صرف گاؤں ہی
اقامت واذان کے متعلق مفصل سوال کا اجمالی جواب ! اذان مئذنہ پر دی جائے، مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے ! نماز جنازہ میں سلام سے پہلے ہاتھ چھوڑ دے اودرود پڑھنا ثواب کا کام ہے، کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں ! ابلیس کی گر ہی وہابیہ سے ہلکی ہے ! صلوۃ و سلام بعد اذان مستحسن ہے! دعا کسی جانب منہ کر کے جائز ہے! کا کوئی نہ کوئی کبھی کبھی پڑھا دیا کرتا تھا، خاص کر زید پڑھا دیا کرتا تھا لیکن زید پڑھنا لکھنا بالکل نہیں جانتا ہے، قرآن مجید ناظرہ پڑھنا بھی نہیں جانتا ہے۔ شروع میں جب امام مذکور آئے تو اقامت کے وقت بیٹھ جاتے اور جب مکبر حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح‘“ کہتا تو کھڑے ہوتے اور جب نماز کا سلام پھیر دیتے تو کعبہ سے رُخ پھیر کر دعا مانگتے شمالا وجنوبا وشرقا اور جمعہ کو خطبہ کی اذان مسجد سے باہر جہاں وضو کر تے ہیں جبکہ پہلے مسجد کے اندر مبر کے برابر ہوتی تھی ، دلوانی شروع کر دی اور کہا کہ مسجد میں اذان پڑھنا مکروہ ہے ، خلاف سنت ہے اور نماز جنازہ میں ہم سلام پھیر کر ہاتھ چھوڑ دیا کرتے تھے اور ایسا بھی بڑے بوڑھوں سے ہوتا چلا آیا تھا لیکن امام صاحب مذکور نے کہا کہ ایسا کرنا غلط ہے، چوتھی تکبیر کہنے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے ہاتھوں کو چھوڑ دینا چاہئے اور کہتا ہیں بھی دکھلائیں اور کہا کہ جیسا تم لوگ کرتے ہو، یہ کسی کتاب میں نہیں ہے اور محرم کی مجلس میں میلاد پڑھنے والی پارٹیاں ذکر امام حسین پڑھتے ہیں لیکن مجلس کے ختم ہونے پر سلام و قیام نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ مجلس ذکر شہادت میں محرم کے مہینے میں سلام و قیام جائز نہیں یہ تو میلاد کی مجلس میں پیدائش کے وقت ہوتا ہے اور جب امام صاحب مذکور محرم کے مہینہ میں ذکر شہادت بیان کرتے ہیں تو بعد میں سلام و قیام بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھی شخص کسی مستند کتاب سے یہ ثابت کر دے کہ ان ایام میں امام حسین کی شہادت کے ذکر میں امام حسین کے نانا حضور سرور کائنات فخر موجودات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سلام پڑھنا منع ہے تو دس روپیہ انعام دئے جائیں گے کیونکہ حضور کا چاہنے والا فرماتا ہے: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً} [سورہ احزاب-۵۶]۔ بے شک ہم اور ہمارے فرشتے درود بھیجتے ہیں پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ، اے ایمان والو تم بھی درود بھیجو اور خوب سلام پڑھو۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ کہاں فرمایا ہے کہ آگے چل کر ہمارے محبوب کے نواسوں کی شہادت کا ذکر محرم کے زمانے میں ہوا کرے گا تو تم اس موقع پر درود و سلام نہ بھیجا کرنا جب قرآن کا مطلق حکم ہے تو اس کے اطلاق کو باقی رکھا جائے گا جبکہ کوئی دشواری نہیں ہے، حرف ”ان کے ساتھ تاکید فرمادی جو حروف مشبہ بالفعل سے ہے، تم اپنی طرف سے منع کرنے والے کون ہو؟ یہ بھی کاشتکاری ہے جو تم دخل دو گے خبر دارا یہ رافضیوں کی باتیں ہیں تمہارا بھتیجہ تم کو سلام کرے، تمہارا بھانجہ تم پر سلام کرے، تمہارا پو تاتم کو سلام کرے یا غیر تم کو سلام کریں تو تم کیوں منع نہیں کرتے کہ بھتیجے! یہ محرم کا مہینہ ہے، سلام کرنا جائز نہیں ، بھانجے! یہ محرم کا مہینہ ہے سلام کرنا جائز نہیں، پوتے ! یہ محرم کا مہینہ ہے سلام کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن افسوس کہ تم وہاں پر پھول کر ڈھول ہو جاتے ہو اور اگر ہم اپنے آقا ومولیٰ معراج کے دولہا وجہ کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام پڑھیں تو تم کو کیوں تکلیف ہوتی ہے؟ اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت مرحمت فرمائے ، آمین۔ اور امام صاحب مذکور نے مغرب کی نماز کے علاوہ ہر نماز کی اذان کے بعد جماعت سے قبل صلوۃ کہنا شروع کر دیا ہے اور الفاظ یہ ہیں : ” الصلوۃ والسلام علیک یا رسول الله، الصلوۃ والسلام علیک یا نبی الله الصلوۃ والسلام علیک یا حبیب الله، الصلوۃ والسلام علیک یا قاسم رزق الله الصلوۃ والسلام علیک یا زینة عرش الله الصلوة والسلام علیک یا نورا من نور الله و علی آلک واصحابک یارسول الله “۔ اور اس پر بھی زید مذکور نے بہت کچھ اعتراض اور متعدد جگہ پر شکایتیں کیں۔ ایک دومرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ بھی صلوۃ میں کہہ دیا تھا تو اس پر بھی زید نے بہت کچھ شکایتیں کیں اور کہا کہ یہ کوئی بقر عید کی نماز ہو رہی ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کا نام لیا گیا؟ اور کوئی صلوۃ ضروری ہے جو پڑھی جاتی ہے؟ اور امام صاحب مذکورا کثر فجر کی نماز کے بعد جنوب کی طرف رُخ کر کے دعا مانگتے ہیں تو اس پر بھی زید مذکور نے شکایتیں کرنی شروع کر دیں کہ پچھتم کو تو کعبہ ہے اور شمال کو قطب ہے اور جنوب کی طرف تو لڑکا ہے، اُدھر کو منہ کر کے کیوں دعا مانگتے ہیں؟ یہ جائز نہیں ہے۔ اور جب امام مذکور آئے تھے تو کبھی کبھی گرمیوں کے موسم میں ایسا کرتے تھے کہ جب اقامت مکبر کہتا تو حی علی الفلاح کہنے پر امام صاحب مصلیٰ پر پہنچتے تھے کیونکہ مسجد کے آگے ٹین پڑی ہوئی ہے اور ٹین کے باہر صرف ایک صف کی جگہ ہے اس وجہ سے نماز ٹین کے اندر بھی ہوتی ہے اور مسجد میں بھی بجلی وغیرہ نہیں ، گرمی بے حد ہوتی ہے اس وجہ سے امام صاحب مذکور اپنے حجرے کے سامنے جو جگہ خارج مسجد ہے اور کچی ہے مسجد کے فرش سے متصل ہے، اپنا مصلی بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور حی علی الفلاح“ پر فورا مصلی پر پہنچ جاتے ہیں تو اس پر بھی زید مذکور نے علی الاعلان کہا کہ تکبیر یعنی اقامت ہرگز ہرگز نہیں کی جا سکتی ہے جب تک کہ امام مصلی پر نہ آجائے ، ہرگز جائز نہیں ہے، ایسا کرنا نہیں چاہئے تو اس پر امام