بدکردار اور سودی کاروبار میں ملوث امام کی امامت کا شرعی حکم
یہاں امامت کا کام انجام دیتے تھے، مقامی باشندہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس کے تمام حرکات وسکنات جانتے تھے اور عام شکایت یہ تھی کہ امام موصوف کا تعلق چندلڑکیوں کے ساتھ ہے باوجود شکایت کے گاؤں کے یہ چند افراد توجہ نہ دیتے تھے اب چونکہ اس سال جب مذکور امام نے اپر سوسائٹی میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل امیدوار کا فارم رجکٹ کروایا، تو اپر سوسائٹی کا ممبر بنا کر اس کو اپر سوسائٹی کا سکریٹری منتخب کیا گیا یعنی سودی کاروبار نہ چھوٹا۔
الجواب: المستفانی : عبد الحق متائی حر که در نگام فی الواقع اگر وہ امام ان لڑکیوں سے ناجائز تعلق رکھتا ہے تو سخت بد کام اشد گناہ گار مستحق نار ہے، وہ امامت کے لائق نہیں، اس کی اقتداء مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ ،، لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) یونہی اگر فی الواقع اس نے انتخابات میں ایسا کیا جیسا کہ ذکر ہوا تو اشد گناہ گار ہے اور اسے امام رکھنے پر پنچوں کا اصرار گناہ ہے ان سب پر تو بہ لازم ہے پنچ اگر نام نہاد تبلیغی جماعت کو تبلیغ سے روکتے ہیں تو ان پر الزام نہیں فی الواقع تبلیغی جماعت کو روکنا لا زم اور اگر سنی واعظ کو منع کرتے ہیں تو بلا شبہ ظالم ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (۱) غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت