شافعی امام کی اقتدا اور داڑھی کی شرعی مقدار کا بیان
ہیں: امام حسین نوراللہ، امام زین العابدین نور اللہ، امام باقر نور اللہ ، امام جعفر صادق نور اللہ غوث الثقلین نور اللہ ۔ تو یہ پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟ عمرو کا کہنا ہے کہ یہ پڑھنا جائز نہیں کہ ان پر قرآن مقدس کی آیت پاک تلاوت کرنا ہے، تو یہ کیسا ہے؟ حالانکہ یہ ایک مسجد کا امام بھی ہے۔ ان تمام سوالوں کا جواب منفصل طور پر دے کر اکورمونون فرمائیں۔ نہایت شکر گزار ہوں گا۔ المستفتی : قاری احمد رضا ، ۷۵ ربیلو یدرے روڈ سلیس بوری، اڑیسہ
الجواب: (1) شافعی امام اگر مذہب حنفی کی مراعات کرتا ہو یعنی کوئی ایسا فعل نہ کرتا ہو جو احناف کے نزدیک ناقص طہارت یا مفسد صلاۃ ہو تو اس کی اقتدا صحیح ہے اور اگر مراعات نہ کرے تو فاسد ہے اور اگر شک ہو کہ مراعات کرتا ہے یا نہیں تو اس کی اقتدا مکروہ ہے۔ درمختار میں ہے: تکره خلف مخالف كشافعي لكن في وتر البحر ان تيقن المراعاة لم يكره او عدمها لم يصح أن شک کره (1) اور از انجا کہ یہ شرط یہ چاہتی ہے کہ امام دونوں مذہب کے مسائل ضرور یہ سے باخبر ہو اور حال یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے ہی مذہب کے مسائل ضرور یہ معلوم نہیں ہوتے۔ لہذا یہاں احتیاط یہی ہے کہ حنفی شافعی کی اقتدا نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲، ۳) یہ غلط ہے، داڑھی کی شرعی مقدار یکمشت ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے۔ علامہ سیوطی شافعی نے تنویر الحوالک میں امام باجی سے نقل کیا ہے کہ سید نا ابن عمر وابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جتنی زیادہ ہوتی قطع فرماتے تھے (۲)۔ در مختار میں ہے: وو والسنة فيها القبضة (۳) (1) الدر المختار ج ۲ ص ۳۰۲ کتاب الصلوة باب الامامة (ملخصاً) دار الكتب العلمية، بيروت (۲) تنوير الحوالک، کتاب الشعر ۶۸۲ ، دار الكتب العلمية بيروت (۳) الدر المختار، ج ۹، ص ۵۸۳ ، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره، دار الكتب العلمية، بيروت اسی میں ہے: اما الأخذ منها وهى دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه احد وأخذ كلها فعليهود الهند ومجوس الأعاجم جس کی داڑھی حد شرع سے کم ہو، اس کی امامت مکروہ ہے اور باشرع شافعی کی اقتدا به شرط مراعات مذہب حنفی جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس صورت میں تنہا تنہا پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) صحیح ہے ، جو غلط بتا تا ہو،خو دغلط ہے، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی