دیوبندی وہابی امام کے پیچھے نماز اور وقف جائیداد کے ناجائز استعمال کا حکم
(1) ہمارے گاؤں میں ایک پختہ مسجد ہے اور اس کے نام کچھ زمین وقف ہے، اور اس مسجد کے امام ایک مولا نا جوسہارنپور سے فارغ ہیں، امامت کرتے ہیں اور وقف کی زمین اپنے قبضہ میں کئے ہوئے ہیں اس کی آمدنی سے نہ مسجد کی مرمت کراتے ہیں نہ کسی کو حساب ہی سناتے ہیں اس بنا پر کچھ لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں امام موصوف کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں؟ (۲) یہاں جو مسجد اس وقت قائم کی گئی تھی وہ کسی ہندو کی زمین تھی اور مسجد بننے کے تقریباً ۳۵ سال کا عرصہ ہو گیا، ہنوز وہ ہندو ہی اس کا رینٹ دیتا ہے امام صاحب سے وہ برابر تقاضا کرتا رہتا ہے کہ آپ لوگ مسجد والی زمین اپنے نام کر لیں۔ نہ امام صاحب اپنا نام خارج کرتے ہیں نہ رینٹ ہی ادا کرتے ہیں۔ لہذا بعض لوگ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا غلط قرار دیتے ہیں۔ شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۳) جو زمین مسجد کے نام وقف ہے مسجد سے الگ وقف شدہ زمین میں ہم گاؤں والے عیدین کی نماز ادا کرتے تھے لیکن امام موصوف نے اپنی موروثی جائیداد سمجھ کر اپنا قبرستان خاص کر لیا ہے اور عیدین کی نماز احاطہ مسجد میں ادا کرائی جاتی ہے اور امام صاحب احاطہ مسجد میں عیدین کی نماز پڑھنا جائز قرار دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہاں عیدین کی نماز ادا کرنا کیسا ہے؟ اور وقف کی زمین قبرستان بنانا کیسا ہے؟ (۴) ہمارے امام صاحب پندرہویں شعبان نہیں مناتے ہیں اور ہم مقتدی اس کے قائل ہیں لہذا ہم مقتدی کا اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۵) امام صاحب نے اپنے کو مسجد کا متولی بنا کر وقف کی پوری زمین پر قبضہ جمالیا ہے اور بانی مسجد کے نام سال میں ایک بار ثواب رسائی بھی کرا لیتے ہیں اور امام موصوف اپنے گاؤں سے باہر معلمی کرتے ہیں اور اس پر زور دیتے ہیں کہ ثواب رسائی و فاتحہ و میلاد میں قیام بالکل ناجائز ہے اور یہاں اس لئے ثواب رسائی کرتے ہیں کہ وقف کی زمین پر اسی حیلہ سے تصرف رکھا جائے۔ لہذا ایسے تکیہ باز کے پیچھے نماز کیسی ہے؟ المستفتی محمد منشی لطیف ، ساکن مولا نا اور پوسٹ بارسوئی گھاٹ ضلع کئی بار ( بہار )
الجواب: بر تقدیر صدق سوال وہ شخص کھلا دیو بندی ہے۔ وہابی دیامہ کے پیچھے نماز باطل محض ہے کہ اصلاً ہوگی ہی نہیں کہ جماہیر علماء کے نزدیک کافر ہے۔ در مختار میں ہے: ۴۲۸ وان انکر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بهافلايصح الاقتداء به اصلا (۱) والكافرلاصلاةله فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) کفایہ شرح ہدایہ میں ہے: فتح القدیر میں ہے: " ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز (۳) اور خود اس کی وہابیت اس کی تولیت سے مانع ہے کہ بتصريحات صحیحہ شرعیہ خود معزول ہے۔ لہذا اسے معزول کرنا شر عالا زم اور امام بنانا گناہ۔ در مختار میں ہے: ” وينزع بزازية (لو) الواقف درر فغیره بالاولی (غیر مامون) او عاجزاً او ظهر به فسق (۴) رد المحتار میں ہے: قوله ( وينزع وجوباً) مقتضاه اثم القاضى يتركه والاثم بتولية الخائن(ه) غیر مسلم سے وہ زمین لے کر وقف مسجد پر کی جائے اور اس زمین کو قبرستان بنانا نا درست ہے اور لوگوں کو اختیار ہے کہ اس میں سے مردے کو نکال دیں یا قبر برابر کر دیں۔ در مختار میں ہے: وو ولا يخرج منه بعد اهالة التراب الا لحق آدمى كان تكون الارض مغصوبة او اخذت بشفعة ويخير المالک بین اخراجه و مساواته بالارض كما جاز زرعه والبناء عليه اذا بلی و صار ترابا - زیلعی ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۹ رذی قعدہ ۱۳۹۷ھ