امام کے غیر شرعی افعال، غیر مسلموں کی تعریف، ویڈیو فلم اور مالی غبن کے متعلق سوال
تفصیلی کے مطابق احترام میں واقع ہے یا نہیں ؟ اگر واقع ہے تو زید امام مذکور پر کیا حکم شرع عائد ہوتا ہے؟ اور اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح وغیرہ لازم ہے یا نہیں؟(۲) زید مذکور جمعہ میں منبر رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر خطبہ جمعہ کے وقت غیر مسلموں کی تعریفیں کرتا ہے اور ان کے لئے دعائے خیر کرتا ہے اور دوسروں کو بھی دعا کی ترغیب دیتا ہے صرف اپنی شہرت اور ان کی نظر میں اچھا بننے کی غرض سے۔ ایسے امام کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟(۳) اسی امام نے اپنی سرپرستی میں ایک سیاسی جلسہ کرایا جس میں کسی مولانا مولوی وغیرہ کو نہیں مدعو کیا بلکہ سب سیاسی لیڈروں کو بلایا اور وہیں لوگ جمع ہوئے ( جبکہ اس جلسے کو مذہبی اور دینی جلسے کا نام دیا اور قوم میں یہی اعلان بھی کیا ) اس جلسے میں لیڈروں نے ایک مشہور ولی اللہ ایک عظیم ہستی کی شان میں یہ کہا کہ انہوں نے بت خانے کی تعمیر خود کھڑے ہو کر کرائی ہے۔ بار بار یہ کہا گیا لیکن امام مذکور یہ سب سنتار با اور اس کی تردید نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسا قدم اٹھایا جس سے اظہار بیزاری ہو۔ لہذا امام مذکور پر کیا حکم شرع نافذ ہوتا ہے؟ اور وہ شیطان اخرس کے حکم میں آتا ہے یا نہیں؟(۴) زید امام مذکور نے اس سیاسی جلسے میں ویڈیوفلم بنوائی اور اس سے قبل بھی بنوا چکا ہے اور فوٹو بھی کھنچوا تارہتا ہے۔ لہذا ایسے کو امام بنانا جائز ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟(۵) امام مذکور امامت کے فرائض برابر انجام نہیں دیتا اور ۴۰ فیصد بلا اجازت انتظامیہ کمیٹی کے غائب رہتا ہے اور تنخواہ پوری کی پوری لڑ جھگڑ کر وصول کرتا ہے مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے نمازیوں میں انتشار رہتا ہے جس کی وجہ سے نمازیوں کی تعداد گھٹ کر نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے اور مسجد مرثیہ خواں ہے۔ لہذا ایسے امام کو پوری تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟ اور وہ امامت کے لائق ہے یا نہیں؟(1) زید مذکور نے قوم کو دھوکہ دے کر تقریباً ایک لاکھ روپیہ مدرسہ کے نام پر وصول کیا کہ میں ایک دینی ادارہ قائم کروں گا جس میں احادیث کریمہ حفظ قرآت ناظرہ وغیرہ کی تعلیم ہوگی قوم اس کی چرب زبانی میں آگئی اور ہر قسم کے عطیات زکوۃ ، عشر، فطرہ ، چرم قربانی وغیرہ سے برابر مدد کرتی ہے زید نے پوری رقم نہین کر لی مدرسہ ختم ہو گیا جب حساب مانگا گیا تو کہا کہ کاغذات دیمک کھا گئی تقریباً آٹھ سال کا حساب اس کے ذمہ ہے جب بھی حساب کا مطالبہ کیا گیا تو اس قسم کی لایعنی باتوں میں ٹال مٹول کرتا رہا
الجواب: (1) گردوارہ میں جانا ہی مسلمان کو جائز نہیں اس جگہ اس تصویر کی نقاب کشائی ظلم بالائے ظلم ہے اور اپنی تصویر کھنچوانا بھی حرام بر تقدیر صدق سوال اس شخص پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کر لینا چاہئے اور تجدید نکاح بھی کہ عرفا اس فعل سے تعظیم ہی مفہوم ہوتی ہے اور کافر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: تبجیل الکافر کفر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ سخت گنہ گار مستوجب نار مستحق غضب جبار ہے، تو بہ کرے اور اس فعل بد سے باز آئے ورنہ ہر واقف حال مسلمان اسے چھوڑ دے اور اسے امام بنانا گناہ اور نماز واجب الاعادہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس پر بلاشبہ انکار منکر لازم تھا اور حق کو ظاہر کرنا ضروری تھا اس نے یہ فریضہ انجام نہ دیا تو ضرور بحکم حدیث شیطان اخرس کا مصداق ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حکم او پر گزرا۔ واللہ تعالی اعلم (۵) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۶) وہ حساب دے اور اپنی حرکات قبیحہ سے باز آجائے اور تو بہ کرے اور جب تک اس کا صلاح حال ظاہر نہ ہو وہ کسی دینی منصب کے لائق نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ صفر المظفر ۱۴۰۹ھ الدر المختار، ج ۹، ص ۵۹۲ ، باب الاستبراء، دار الكتب العلميه، بيروت