جھوٹے حافظ، بد وضع اور غلط قرآت کرنے والے امام کی امامت کا حکم
جھوٹ بولنے والے، نماز میں غلط قرآن پڑھنے والے کی امامت جائز نہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلوں میں کہ: (۱) زید اپنے کو جھوٹا حافظ بتا کر امامت کا کام کرے، رمضان شریف میں نہ قرآن شریف سنا سکے نہ سماعت ہی کر سکے معلوم ہوا کہ کوئی پارہ کا بھی صحیح حافظ نہیں ہے۔ ویسے بھی زید نے بتایا میں ۲۴ پارہ کا حافظ ہوں۔ کیا زید کے پیچھے نماز جائز ہے؟ (۲) زید نماز میں قرآن غلط پڑھ کے سجدہ سہو کر کے نماز درست بتاوے۔اسی طرح نماز پڑھاتا ہے اور بے وضو اذان پڑھنے کا محاورہ رکھے کبھی کبھی فجر کی نماز بے وضو پڑھائے اور روزہ نہ رکھتے ہوئے ظاہر روز وہ دار بن جائے اور بچوں کو سیپارہ کا سبق پڑھاتے ہوئے منہ میں بیڑی سگریٹ لگی رہے۔ کیا زید کے پیچھے نماز درست ہے؟ (۳) زید کو بستی کی مسجد میں اچھی خاصی اجرت دے کر امام رکھا جاوے اور بستی کے آدمیوں میں فتنہ فساد پھیلاوے کسی کو دوست بنائے کسی کو دشمن جانے ، جائز کو نا جائز ، جس میں بہت سے آدمیوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور مسجد کا ماہوار چندہ بند کر دیا۔ ایسے امام (زید) کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ اطلاع کرنے کی مہربانی کریں گے؟ جواب کے لئے لفافہ حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرماوے۔ (۴) زید امام ہو کر نفل بیٹھ کے ہی پڑھے، سنت مؤکدہ پڑھ کر جمعہ میں گپ شپ بیٹری سگریٹ پیئے اور قرآت کو چیخ کر پڑھے چاہے جماعت میں دو ہی آدمی کیوں نہ ہوں ۔ حرفوں کو اینٹھ کر شو دکھا کر بھاری نماز پڑھائے ایسے نا واقف امام کے پیچھے واقف کی نماز درست ہے یا نہیں ہے؟
الجوال: المستفتی: مہدی حسن ، رحمت الله محمد سلیم ( بقلم خود ) بالور سمینٹ روڈ، ٹھنکپور بازار، ضلع نینی تال (یوپی) زید مذکور کے افعال جو درج سوال ہوئے ، ان میں اکثر خلاف شرع ہیں، اگر اس کے یہ افعال شرعاً ثابت و مشتہر ہیں تو وہ فاسق معلن ہوا اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کی اقتداء مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ غنیتہ میں ہے: ”لوقدموافاسقاياثمون) در مختار میں ہے : کل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) بلکہ اس کی اقت را باطل ہے جبکہ قراءت میں ایسی غلطی کرتا ہو جس سے نماز فاسد ہوتی ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ / ذی قعده ۱۳۹۸ھ