دیو بندی کے پیچھے نماز جائز نہیں ! دانستہ انہیں امام بنانا حرام کفر انجام ہے!
سوال
سرکار حضور مفتی اعظم ہند قبلہ! السلام علیکم یہاں ایک دیو بندی حافظ صاحب کو امام بنا دیا ہے۔ لہذا اہل سنن حضرات کا کہنا ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ برائے کرم جواب عطا فرمائیے ۔ معین نوازش ہوگی امستفتی: منو کیراف حبیب اللہ، کینٹ بیکری اسٹیشن روڈ بنیا کینٹ
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
دیو بندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فر بیدین ہیں، ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور دانستہ انہیں امام بنانا حرام کفر انجام ۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (1) اور در مختار میں ہے: تبجیل الکافر کفر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ رذی قعدہ ۱۴۰۲ھ (۱) الكفاية، ج ۱، ص ۳۲۴، کتاب الصلوة باب الامامة، دار احياء التراث العربي (۲) الدر المختار، ج ۹، ص ۵۹۲، باب الاستبراء دار الكتب العلميه، بيروت
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۴۴۳–۴۴۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ندوی، دیوبندی اور جماعت اسلامی کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
داڑھی کٹانے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم اور انگریزی بال رکھنے والے کی امامت
باب: کتاب الصلوٰۃ
دیوبندی وہابی امام کے پیچھے نماز اور ترجیح امامت کے مسائل
باب: کتاب الصلوٰۃ
اگر امام بدعقیدہ ہو تو اقتدا باطل ! بدعتیوں کے پیچھے نماز ناجائز ، کافر کے پیچھے نماز باطل ! امام کی بدعقیدگی کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہونا الزام نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
خطبہ میں ذکر اہل بیت سے گریز اور ثبوتِ قرآن پر سوال اٹھانے والے امام کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ