اگر امام بدعقیدہ ہو تو اقتدا باطل ! بدعتیوں کے پیچھے نماز ناجائز ، کافر کے پیچھے نماز باطل ! امام کی بدعقیدگی کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہونا الزام نہیں !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید عالم دین ہیں، مدرسہ میں درس بھی دیتے ہیں، راستہ کے پچھم میں جامع مسجد ہے اور پورب میں مدرسہ ہے اور زید اسی مدرسہ کے مدرس ہیں، مدرسہ اور مسجد کا فاصلہ تقریباً پچاس ہاتھ ہوگا ۔ اب جبکہ مسجد میں جماعت ہوتی ہے، اس وقت وہ زید عالم مدرسہ میں ہی اپنے طلبہ کو لے کر جماعت شروع کرتا ہے تو کیا یہ زید کا عمل با شرع ہے؟ یعنی اتنے فاصلہ پر مسجد چھوڑ کر ایک ہی وقت میں دوسری جگہ جماعت کرنا صحیح ہے یا غلط؟ فقط والسلام المستفتي: عبد الخالق ساکن پر تاپ پور، پوسٹ ملک پور ضلع پیر بھوم ( بنگال )
الجواب: اگر امام مسجد کے اندر کوئی نقص شرعی ہے مثلا وہ بد عقیدہ ہے اور اس کی بد عقیدگی حد کفر تک پہونچی ہوئی ہے جیسے دیو بندی وغیرہ تو اس کی اقتدا باطل ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہی نہ ہوگی اور دانستہ ایسے کو امام بنانا بہ حکم فقہاء کفر ہے۔ فتح القدیر میں ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: (1) " ان الصلاة خلف اهل الاهواء لا تجوز (1) والكافر لاصلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲) کفایہ میں ہے: در مختار میں ہے: ” تبجیل الکافر کفر (1) زید مذکور اگر امام کی بد عقیدگی کی وجہ سے اس کی اقتدا سے باز رہتا ہے اور اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مسجد میں جماعت سے نہیں پڑھ سکتا تو اس پر شرعا الزام نہیں بلکہ ملزم وہ ہیں جو اس بدعقیدہ کو امام بنائے ہوئے ہیں اور اگر بد عقیدگی حد کفر تک نہیں پہونچی کسی بد عقیدہ کے کفریات جان کر وہ اسے مسلمان جانتا ہے اور ایسا آج کل بہت نادر ہے تاہم گمراہ سے کم نہیں اور گمراہ کی اقتداء مکروہ تحریمی به کراہت شدیدہ ہے اور نماز اس کے پیچھے واجب الاعادہ ہے۔ یونہی جب کہ علانیہ فسق و فجور کا مرتکب ہوتو بھی یہی حکم ہے کہ اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ۔ غنیہ میں ہے: ،، لوقدموا فاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (۲) در مختار میں ہے : کل صلاة ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) لہذا زید اگر امام کے فسق یا گمرہی کی بنا پر اس کی اقتدا سے رکتا ہے تو اسے اور سب کو یہی لازم ہے۔ اور اگر امام میں کوئی شرعی نقص نہیں تو زید کو جائز نہیں کہ مسجد کی حاضری بلا عذر شرعی چھوڑے بلکہ اسے لازم ہے کہ مسجد میں آکر جماعت اولیٰ میں شریک ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳ صفر المظفر ۱۳۹۹ھ