نماز میں سلام، مسجد کے فنڈز کا استعمال، تراویح کی اجرت اور فاسق امام سے متعلق سوالات
سلام کی وجہ سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے ایسے موقع پر انتشار سے کیسے بچا جائے اور ادائیگی فریضہ کسی طرح کرنا چاہیے؟ (۷) مسجد کا کنواں خراب ہو جانے کی وجہ سے ذریعہ گولک چندہ فراہمی کی اسکیم ہے تا کہ مصلیان مسجد کو پانی وضو کے لیے بذریعہ نل حدود مسجد ہی نہیں مسجد میں مل جائے مگر اس تحویل چندہ سے محراب سنانے والے باہری حافظ کے خوردونوش کا انتظام ہوتا ہے اس بارے میں صحیح مسئلہ سے مطلع فرمائیے ۔ (۸) جو حافظ تراویح پڑھانے کے لیے اپنا نذرانہ قبل رمضان ایک موٹی رقم طے کر کے سکہ رائج الوقت کے بدلے کلام اللہ سنائے ایسے حافظ کے پیچھے تراویح اور نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (9) جو امام تحویل مسجد سے بغیر کمیٹی مسجد کے منشاء کے میعادی سودی رقم پر پیسہ لوگوں کو دے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۱۰) جو امام عوام پر فی سبیل اللہ کا ڈھونگ رچ کر در پرده تحویل مسجد سے فائدہ اٹھائے اور پابندی اوقات صلوٰۃ نہ کرے اور اپنے ذاتی فائدے کے لیے امامت سے چپکا ر ہے اور عوام کے اصرار پر ڈیڑھ وروپے ماہوار مشاہرہ مقرر کرنے پر بھی پابندی وقت نہ کرے اور فی سبیل اللہ کا ڈھونگ رچانے کے لئے مشاہرہ بھی قبول نہ کرے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۱۱) امام مسجد نے اپنا اقتدار اور اپنی امامت برقرار رکھنے کے لیے مقتدیوں سے فریب کر کے دوسال دیو بندی خیال کے حافظ کے ذریعہ تراویح پڑھوائی مقتدیان مسجد نے تحقیق کی اور اپنی پوری تسلی اور تشفی کے بعد حافظ مذکور کے پیچھے نماز پنج گانہ کی ادائیگی سے گریز کیا۔ امسال اسی خیال کے قاری حافظ عالم کو غلط پروپیگنڈا کے ذریعہ عوام کے جذبات کو مجروح کر کے مسترد کر دیا۔ مجبور امستدعی نے عالم مذکور کوقبل رمضان مسلمانوں میں خلفشار پڑنے کی وجہ سے عالم مذکور کو واپس کر دیا۔ یہ عمل عند اللہ دونوں مخالف یا معانق کیسا ہے اور امام صاحب سابق کا حافظ دیو بندی سے چونکہ ساز باز ہے اس لیے وقتاً فوقتاً با وجود کراہت مصلیان مسجد نماز پنج گانہ میں سے کبھی کبھی پڑھواتے رہتے ہیں اس سے امام صاحب کے اس عمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ بریلوی اور وہابی کا فتنہ صرف ان کے نفس کا ہے اور جب جب ان کو فائدہ دکھائی دیا عمل ہوا۔ المستلنی : چودھری فضل احمد، فروٹ چنٹ ترا با گر رہائے منبع طبع گڑھ
الجواب: (۱تا۳) ثبوت شرعی سے اگر اس کی خیانت اور حساب کی کا پی گم کرنا اور فرضی حساب پیش کرنا اور اپنی غلط تعریف کرنا ثابت ہو جیسا کہ گز را تولا ئق امامت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) خوف فتنہ کی صورت میں اس کی اقتدا جائز ہے۔ بعد میں اعادہ نماز کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) ایسی صورت میں سلام اتنی آواز سے پڑھے کہ نمازیوں کو تشویش نہ ہو یا اتنا انتظار کر لے کہ نماز ہو جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) چندہ دہندگان کی اجازت سے خوردونوش حافظ کا انتظام جائز ورنہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) ہمارے ائمہ کرام حنفیہ قدست اسرار ہم کے نزدیک طاعات پر اجارہ جائز نہیں۔ قال تعالى: وَلَا تَشْتَرُوا بِأَيْتِي ثَمَنًا قَلِيلًا اللہ کی آیتوں کے بدلے دنیا کا تھوڑا نہ خریدو۔ حدیث میں ہے: ” و ان اتخذت مؤذناً فلا يأخذ عليه اجرا لہذا تراویح اجرت پر پڑھنا جائز نہیں۔ یہاں تک کہ جہاں کا عرف معلوم ہے کہ تراویح پڑھانے والے کو کچھ دیتے ہیں وہاں سے وہ رقم لینا بھی جائز نہیں کہ المعروف کالمشروط ۔ ہاں اگر یہ کہہ دے کہ کچھ نہ لونگا اور وہ کہیں کہ کچھ نہ دیں گے پھر بھی کچھ دیدیں بطور صلہ یا وقت کی اجرت کہ اس وقت میں جو کام چاہو لے لو وہ رقم پیشگی برضائے فریقین لے لی تو اس پر الزام نہیں۔ اور اگر یہ نذرانہ تراویح ہی کا طے پایا تو گناہ گار اور نا قابل امامت ہے جب تک تو بہ نہ کرلے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰،۹) امام پر اگر ثبوت شرعی سے یہ جرائم ثابت ہوں تو امامت کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) فی الواقع اگر امام مذکور نے دیو بندی حافظ سے ( بر تقدیر صدق سوال ) تراویح پڑھائی سخت ملزم ہے۔ اس پر اور جنہوں نے ایسے حافظ کی اقتدا کی ( بہ رضا و رغبت بے خوف فتنہ سب پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے جبکہ اسے دیو بندی جانتے ہوں کہ دیوبندی بشنو ائے علمائے حرمین طیبین ایسا کافر مرتد ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں اس کے عقائد کفریہ پر شرعی یقینی اطلاع پا کر شک کرے خود کافر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین ۔ اور اگر بہ ہوائے نفس کسی سنی صحیح العقیدہ کو وہابی دیوبندی بتلایا تو خود اس کے کہنے کا وبال اس پر ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ايما امرئ قال لاخيه يا كافر فقد باء بها احدهما ان كان كما قال والا رجعت عليه (1) جو اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں کا ایک ضرور کا فر ہے اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا تو وہ ور نہ کہنے والے پر کفر لوٹا، اس صورت میں بھی اسے تو بہ وتجدید ایمان کا حکم ہے اور جن مقتدیوں نے اس کی خبر کا یقین کر کے ایسے کی اقتدا کی جسے اس نے رکھا ان پر بھی تو بہ لازم ہے جنہوں نے بعد تحقیق وہابی کو نکالا ان کا عمل صحیح اور عند اللہ مستوجب اجر ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۹ رشوال المکرم ۱۳۹۵ھ