دیوبندی سے رشتہ کرنے، ان کا ذبیحہ کھانے اور انہیں کافر نہ کہنے والے کے پیچھے نماز کا حکم
بہار سے مرید ہے۔ یہ مولوی اپنی لڑکی کی شادی دیو بندی کے یہاں کیا ہے۔ اور ان کے یہاں کا ذبیحہ بھی کھاتا ہے اور یہ جانتا بھی ہے کہ دیوبندی ہے۔ اب یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہم سنیوں کی ان کے پیچھے نماز ہوگی یا نہ ہوگی اور ہم ان کو کافر یا مسلمان کہیں گے شرعی مسئلہ سے آگاہ کریں۔ (۲) پھلواری شریف کا پیر صاحب جو کہ سنی جماعت کہلاتے ہیں اور وہ پیر صاحب دیوبندی کے جنازے کی نماز پڑھائے۔ ایسے پیر سے سنی بیعت ہو سکتا ہے کہ نہیں اور ان کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ (۳) ہمارے محلے کے ایک مولوی کا کہنا ہے کہ دیو بندی کو کافر نہ کہنا چاہیے (حالانکہ یہ مولوی سنی ہے ) صرف اس کو ہم گنہ گار کہیں گے۔ کیا ایسے مولویوں کے پیچھے نماز ہوگی یا نہ ہوگی؟ (۴) کوئی سنی امام جان بوجھ کر دیوبندی کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا گوشت کھاتا ہے ایسے امام کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۵) ایک سنی قاضی دیو بندی کا نکاح پڑھاتا ہے کیا اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی یا نہیں ہوگی؟ جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی : امتیاز احمد رضوی قادری کنور یہ عمر پور بھاگلپور ( بہار )
الجواب : (1) شخص مذکور سخت گنهگار مستحق عذاب نار مستوجب غضب جبار ہے اس پر دیو بندیوں کے میل جول انکے یہاں شادی بیاہ ان کا ذبیحہ کھانے سے تو بہ لازم ہے جب تک اپنے افعال قبیحہ سے تو بہ صحیحہ نہ کر لے ایک مدت تک اس کا صلاح حال ظاہر نہ ہوا سے امام بنانا جائز نہیں کہ وہ فاسق معلن ہے۔اور فاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ (۱) لوقدموا فاسقايأثمون (۲) اور در مختار میں ہے: و كل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) غنية المستملى شرح منية المصلى ، فصل في الامامة ، ص ۵۱۳ ، سهیل اکیڈمی الدر المختار، ج ۲، کتاب الصلوة / باب صفة الصلوة ، ص ۱۴۷، ۱۴۸ ، دار الكتب العلمية بيروت بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ پھلواری شریف کے پیران حال دیو بندیوں کو ( جنہیں تمام علمائے دیار وامصار خصوصا علمائے حرمین شریفین نے ایسا کافر کہا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے خود کافر ہے) کافر نہیں کہتے اور دیوبندیوں سے غایت درجہ اختلاط باہمی رکھتے ہیں یہاں تک کہ دیو بندیوں کا امارت شرعیہ پھلواری شریف ہی سے وابستہ ہے یہ اسی کا ثمرہ ہے کہ یہ شخص دیو بندیوں کا ہم پیالہ ہم نوالہ ہے ان سے سمدھیا نہ جوڑا ہے اب اگر دیوبندیوں کو کافر بد دین جانتا ہے اور ان کے کفر و عذاب میں جو واقف ہوتے ہوئے شک کریں ان کی بھی تکفیر کرتا ہے تو آپ ہی اپنی بیعت کے فسخ ہونے کا فتوی دیتا ہے پھر بھی زبر دستی رشتہ مریدی جوڑے ایسا شخص ہر گز سنی نہیں اور اس کے پیچھے نماز نا درست ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہرگز نہیں نہ ایسے کے پیچھے نماز ہو کہ دیوبندیوں کو امام بنانا دیو بندیوں کی تعظیم ہے اور ان کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: ،، تبجیل الکافر کفر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جو د یو بندیوں کو کافر نہ جانے انہیں کافر کہنے سے منع کرے وہ کب سنی ہے یہی پھلواری کی رٹ ہے ایسے کے پیچھے نماز نا درست ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) مردار کھاتا ہے سخت گنہگار ہے اسے امام بنانا گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) قاضی مذکور سخت فاسق ہے اس کو امام بنانا گناہ ہے اور اگر اپنے اس فعل حرام کو جائز وحلال سمجھتا ہے تو یہ کفر ہے اور نماز اس کے پیچھے نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی یکم جمادی الاولی / ۱۳۹۶ھ الدر المختار ج ۹، كتاب الحظر والاباحة / باب الاستبراء وغيره ، ص ۵۹۲، دار الكتب العلمية بيروت