امام کی نازیبا گفتگو، واقعہ آدم علیہ السلام کی غلط تشبیہ اور معراج کے حوالے سے علمِ مصطفیٰ کی غلط بیانی کا حکم
سورج ڈوب چکا ہے۔ بے شرم اور غدار کے جملے تین تین مرتبہ دہرائے ۔ لہذا خدمت مفتی اعظم ہند میں گذارش ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ یہ جملے کونسی کتاب میں ہیں جو ایک یہودی نے حضرت علی شیر خدا کی شان میں کہے ہیں اور اگر کسی کتاب میں نہیں ہیں تو ایسی بدکلامی کرنے والاشخص کیسا ہے۔ اور وہ کس مذہب کا ہوسکتا ہے۔ (۴) یہ کہ امام صاحب کو گاؤں والوں سے کچھ ضروری بات کرنی تھی جب لوگ جمع ہو گئے تو موصوف نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی : انی جاعل فی الارض خلیفہ اور واقعہ تولید آدم علیہ السلام کی تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح پروردگار عالم نے روز ازل میں تمام فرشتوں کو اکٹھا کر کے فرمایا کہ میں بیچ دنیا کے ایک خلیفہ بھیجنا چاہتا ہوں اے فرشتو! تمہاری کیا رائے ہے۔ آج میں نے بھی اسی طرح تم کو اکٹھا کیا ہے اور رائے لینا چاہتا ہوں اس طرح کے جملے استعمال کرنا اور اتنی بڑی تشبیہ دینا ایک عالم کے لیے کیسا ہے۔ اور ایسے عالم کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ واضح فرمائیں۔ (۵) امام صاحب نے ایک بیان میں معراج کا واقعہ سنایا تو حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم کو نورصلی جبرئیل کے علم سے گھٹا کر دکھایا۔ یعنی اس طرح بیان کیا کہ جب حضور دوزخ کی سیر فرما رہے تھے ایک مقام پر دیکھا کہ کچھ لوگ عذاب میں مبتلا ہیں تو حضور علیہ السلام نے جبرئیل سے پوچھا: اے اخی یہ کون لوگ ہیں جو ایسے عذاب میں مبتلا ہیں؟ تو جبرئیل نے جواب دیا کہ ہاں ہاں بتادوں گا پھر آگے بڑھے اور دوسری جگہ لوگوں کو عذاب میں مبتلا پایا تو پھر حضور نے جبرئیل سے دریافت فرمایا کہ اے بھائی یہ کون لوگ ہیں جو اتنے شدید عذاب میں مبتلا ہیں تو جبرئیل نے پھر وہی جواب دیا کہ ہاں ہاں بتا دونگا پھر آگے بڑھے۔ اور تیسری جگہ بھی یہی سوال و جواب ہوئے اور آخر میں جبرئیل نے حضور کو عذاب میں مبتلا لوگوں کی قسموں سے آگاہ کیا۔ لہذا آپ واضح فرمائیے کہ یہ سب کچھ درست ہے؟ ہمیں ان کے بیانوں سے شک ہو گیا ہے۔ کہ یہ امام صاحب سنی نہیں ہیں بلکہ دیو بندی یا غیر مقلد مذہب کے ہیں آپ وضاحت سے روشنی ڈالیے نوازش ہوگی۔ المستفتی : حبیب احمد و کمال
الجواب: (۱) مجرد کی امامت میں کوئی حرج نہیں جبکہ مسائل طہارت و نماز سے واقف ہو اور علانیہ فسق و فجور کا مرتکب نہ ہو اور سب سے اہم یہ ہے کہ خلاف عقائد حقہ اہل سنت کوئی عقیدہ نہ رکھتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اذان کے وقت کھڑا ہونا یا مؤدب بیٹھنا بہتر ہے لیٹے لیٹے سننا نہ چاہیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ روایت محض بے اصل ہے اس میں حضرت علی کی طرف کبیرہ کی نسبت ہے جبکہ کبیرہ شدیدہ کی نسبت بے ثبوت شرعی کسی ادنی مسلم کی طرف بھی جائز نہیں، لا تجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق (1) چہ جائیکہ صحابہ کی طرف، بغیر شبہ جائز نہیں حدیث شریف میں ہے: وو من حدث عنی بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين (۲) جو ایسی حدیث بیان کرے جس کے بارے میں یقین یا گمان ہو کہ وہ جھوٹی ہے تو وہ جھوٹوں میں کا ایک ہے، امام مذکور پر تو بہ لازم ۔ حضرت علی کی طرف ایسی نسبت خارجیوں کی گڑھت معلوم ہوتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) آیت مذکورہ سے مشورہ کا جواز و استحباب ثابت ہے اور یہی امام مذکور کی مرادنہ کہ معاذ اللہ اللہ کی برابری۔ امام مذکور پر اس وجہ سے الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) حدیث مذکور مدارج النبوۃ وغیرہ کتب سیر وحدیث میں موجود ہے۔ اس سے علم حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کونہ گھٹا نالازم نہ اس بنا پر اسے دیو بندی یا غیر مقلد کہنا جائز ۔ ہاں اگر صراحۃ عقائد کفریہ دیو بندیاں باختلاطات غیر مقلدان میں سے کسی کا اظہار کرتا ہو توحکم دیگر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم تنبیہ ضروری: سوال میں جابجا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام نامی پرص، ع بنا ہوا ہے یہ نا جائز ہے پورا درود شریف لکھنا چاہیے۔ اسی طرح صحابہ و تابعین کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا (1) احیاء علوم الدین، ج ۵، کتاب آفات اللسان الآفات الثامنة: اللعن - ص ۴۴۸ دار المنهاج جده (۲) فيض القدير شرح جامع الصغیر من الاحادیث البشیر النذیر، ج ۶ ، حرف المیم، ص ۱۵۱ ، دار الکتب العلمیه بیروت من أغفل هذا حرم خيرا عظيما وفوت فضلا جسيما ) دیگر یہ کہ حضرت علی و حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام نہ لکھا جائے کہ شعار روافض ہے کما صرح به الملا علی القاری فی شرح الفقہ الاکبر (ص ۴) ۔ بلکہ ترضی لکھیں یا یوں لکھیں علی صهر و علیہ السلام اور حسنین کے نام کے ساتھ علی جد ہما وعلیہما السلام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۸ رشوال المکرم ۱۳۹۵ھ