غیر مستند، بے ریش اور بدعقیدہ لوگوں کے میل جول رکھنے والے کی امامت کا حکم
پڑھا نہ کسی مکتب میں تعلیم پائی غالبا اس نے تھوڑی سی اردو کی جانکاری حاصل کی اور ہندی اور انگریزی میں میٹرک پاس کیا ہے جس کی وجہ سے تھوڑا کچھ ادھر ادھر غلط سلط بول لیتا ہے اور وہ اپنے آپ کو مولوی کہلاتا ہے لیکن عربی کی جانکاری ان کے پاس بالکل نہیں ہے اور نہ مولوی کی ان کے پاس کوئی سند ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں بستی کا امام بنوں لیکن امامت کے جتنے شرائط ہیں ان میں سے ان کے پاس بہت کم ہے اور ان کے پاس بہت ساری چیزوں کی خامی ہے اور ان کی مالی حالت بھی اچھی نہیں ہے مزدور قسم کا آدمی ہے۔ اور دوسری بات رمضان شریف کے مہینے میں تھوڑا بخار آنے پر اس کو عذر بتا کر روزہ نہیں رکھتا اور نہ غریب مسکین کو کھانا کھلوا کر روزہ رکھواتا ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ نہ وہ داڑھی رکھتا ہے ، اور چوتھی بات یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنی حنفی کہلاتا ہے لیکن برابر دیو بندیوں کے گروہ میں رہتا ہے، پانچویں بات یہ ہے کہ وہ اپنے گھر میں اتنا نہ سمجھا سکتا ہے کہ وہ اپنی امی جان کو بازار سے روکے ان کی امی جان برابر بازار میں جا کر سودا وغیرہ بیچتی ہے، چھٹی بات یہ ہے کہ وہ شخص دیوبندیوں کے زور کرنے پر عید پڑھانے کیلئے تیار ہوا جب وہ بالکل آمادہ ہو گیا تو اس پر سنی حنفی آدمی کی جماعت سے کسی آدمی نے کہا ارے بھائی تم دیو بندیوں کی بات پر ایسا کیوں کرتے ہو تو اس پر اس شخص نے جواب دیا کہ میں کیا کروں، میں اپنی روزی روٹی کو ماروں؟ یہ کہہ کر اس شخص نے دیو بندیوں کی बात پر امام سنی حنفی کے موجودگی میں عید کی نماز پڑھائی تو علمائے شرع متین ایسے شخص کے بارے میں دلیل حوالہ نمبر کے ساتھ صاف صاف فرمائیں کہ یہ شخص کیسا ہے ؟ اور اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنی کیسی ہے اور جو عید کی نماز پڑھائی وہ نماز ہوئی کہ نہیں ہوئی ؟ المستفانی محمد سعید الرحمان کیراف محمد یونس مقام متھرایا پوسٹ گھر خا، وایا نواب گنج ضلع پورنیہ، بہار
الجوار یسے شخص کو ہرگز امام نہ بنایا جائے اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے اگر وہ شخص دیوبندیوں کے عقائد کفریہ رکھتا ہے یا ان کے کفریات جان کر انہیں مسلمان جانتا ہے تو خود کا فر ہے۔ اس کے پیچھے کوئی نماز صحیح نہیں جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں ان کا اعادہ ضروری ہے مگر عید کا اعادہ نہیں ہوسکتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور اگر وہ دیو بندی بھی ثابت نہ ہو جب بھی لائق امامت نہیں اور اس کے فاسق ہونے میں شبہہ نہیں لہذا اس کی امامت مکروہ اور اسے امام بنانا گناہ ہے۔ لوقدموافاسقايأثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (١) غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۲۲ ذیقعده ۱۳۹۸ھ