فسق و فجور میں مبتلا کو امام بنا نا گناہ ! فاسق کو آگے بڑھانے والے گنہ گار ہیں! کراہت پر مشتمل نماز کا اعادہ واجب ہے!
بخدمت گرامی حضرت مفتی صاحب قبلہا السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے قصبہ ھمنور ضلع اودے پور میں ایک مسجد ہے۔ برسہا برس سے نماز پنجگانہ و جمعہ وغیرہ ہوتا آرہا ہے۔ ابھی موجودہ امام فاسق صرف نماز پڑھانے کے لئے عارضی طور پر داڑھی رکھالی ہے اور حد شرع سے کم ہے۔ شراب پینا گانجا پینا اور پیسہ لے کر جھوٹی گواہی دینا عام بات ہے۔ نیز ان میں کوئی علمی قابلیت نہیں ہے۔ کیا ایسے آدمی کو امام بنانا درست ہے۔ کیا اس کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے۔ جولوگ اس امام کو اپنی ضد کی وجہ سے امام رکھیں ان لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟ پہلی فرصت میں جواب مرحمت فرمائیں اور اس امام نے نس بندی بھی کرا رکھی ہے۔ کیا اس کی اقتد ادرست ہے؟ فقط
الجواب: اگر واقعی وہ امام علانیہ فسق و فجور میں مبتلا ہے تو اسے امام رکھنا گناہ ہے اور اس کی اقتد امکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے غنیتہ میں ہے: (1) لوقدموا فاسقايأثمون) غنيه المستملى شرح منية المصلى، فصل في الامامة، ص ۵۱۳، سهیل اکیڈمی در مختار میں ہے: ،، كل صلوٰة اديت مع كراهةالتحریم تجب اعادتها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله ۱۵ رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی