شراب پلانے اور بدکاری کرانے والے فاسق کی امامت اور اس کی دعوت کا حکم
شراب پلانا عورتوں کو عیش کا سامان بنانا فسق ہے اور فاسق لائق امامت نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: بو ویلڈر محنت سے کماتا ہے اور ان روپوں سے سرکاری افسروں کو شراب پلاتا ہے، غریب عورتوں کو اپنے چنگل میں پھنسا کر سرکاری افسروں کے لئے عیش کا سامان مہیا کراتا ہے تا کہ سرکاری کاموں میں زیادہ سے زیادہ بل بنا کر روپیہ وصول کیا جائے۔ تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کے یہاں کسی نمازی کا دعوت کھانا کیسا ہے؟ برائے مہربانی مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔ ایک عورت کو اس کے آدمی سے الگ کر کے اس سے زنا کراتا ہے، اس کی امامت جائز ہے یا ناجائز؟ المستفتی: محمد اقبال خاں محلہ کچہری گلی دھول پور ضلع دھول پور، راجستھان
الجواب: سوال زید، عمرو وغیرہ ناموں سے کرنا چاہئے کہ یہی ادب سوال ہے، اگر فی الواقع اس شخص پر جرائم مندرجہ شرعاً ثابت ہیں تو وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس سے بچنا لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی