مقتدی کی قرآت، لقمہ کے احکام اور کثیر جماعت میں سجدہ سہو
(1) پیش امام صاحب نے عید الاضحی کی نماز کے لئے نیت کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ جس کو جو سورت یاد ہو، پڑھیں تو کیا نماز میں مقتدی بھی قرآت کر سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) پیش امام سورۃ یوسف ” من الغافلین تک پڑھ گئے اور اس کے بعد سورہ بقرہ پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک شخص نے اللہ اکبر کہا، رکوع نہیں کیا، دوبارہ کہا پھر رکوع نہیں کیا، تیسری مرتبہ واذ قال یوسف پڑھ کر لقمہ دیا پھر وہ پکڑ کر پڑھنا شروع کیا۔ کیا ان تمام حالات میں سجدہ سہو واجب ہوا یا نہیں؟ اور ہوا تو سجدہ سہو بھی نہیں کیا۔ اب اس نے واجب کو ترک کیا، اب اس پر کیا عائد ہو گا ؟ (۳) سجدہ سہو بھی نہیں کیا اور نماز بھی نہیں دہرائی اور نمبر پر کھڑے ہو کر یہ کہہ دیا کہ کثیر جماعت میں سجدہ سہو نہیں ہوتا ہے۔ ان تمام حالات میں اس پیش امام پر کیا عائد ہوگا۔ قرآن وحدیث سے جواب تحریر فرما ئیں ۔ عین نوازش ہوگی سائل : محمد احسان، گوبند گڑھ
الجواب: (1) امام کی قرآت مقتدی کے لئے کافی ہے۔ حدیث میں ہے: قرأة الامام له قرأة لہذا مقتدی کو امام کی قرآت کے دوران سکوت کا حکم ہے۔ قال تعالى: وَإِذَا قُرِ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ امام جس نے مقتدیوں کو قرآت کا حکم دیا ، یا جاہل نادان ہے یا غیر مقلد سرغنہ گمرہان ہے۔اور ظاہر یہی دوسرا احتمال ہے اور بہر تقدیر وہ لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں مقتدی نے لقمہ بے محل دیا، اور بے محل لقمہ مفسد نماز ہے تو جب اس نے لقمہ بے محل دیا، نماز سے خارج ہو گیا اور خارج سے تلقن مفسد نماز ہے۔ لہذا امام نے اگر معا بغیر تفکر وتوقف اس کے لقمہ کو لے لیا تو امام کی بھی نماز گئی اور سب کی گئی اور کچھ توقف کر کے اپنی رائے سے قرآت شروع کی تو نماز ہوگئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم سے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) امام نے یہ صحیح کہا کہ کثیر جماعت میں سجدہ سہو نہیں مگر صورت مسئولہ میں اس پر سجدہ سہو خلاف ترتیب پڑھنے سے واجب نہیں ہوا، کہ خلاف ترتیب پڑھنا مکروہات قرآت سے ہے نہ کہ مکروہات صلاۃ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا غفرلہ