فرائض کے بعد دعا، فاسق کی امامت، ٹوپی اور صافہ میں نماز، اور نماز کے اوقات سے متعلق مسائل
ایسا لکھا ہے اور علمائے دین بھی ایسا کرتے ہیں۔ عمرو کہتا ہے کہ بہار شریعت وغیرہ سے ثابت ہے کہ جس فرض کے بعد سنت ہے اس فرض کے سلام کے بعد ہی فوراً ہاتھ اُٹھا کر مختصر دعا مثلا "اللهم انت السلام - الخ " یا اس دعا سے بھی کم الفاظ والی دعا مانگنی چاہئے ورنہ ثواب میں کمی واقع ہو جائے گی۔ باقی اذکار و اوراد قرآنی مثلا آیۃ الکرسی اور تسبیح فاطمی و غیر ہم بشرط اتفاق مقتدی و امام اجتماعی طور پر سنتوں کو ادا کر کے دعا مانگنی چاہئے یا الگ الگ تنہا تنہا دعامانگنے کا اختیار ہے۔ (۲) ایسے شخص کے پیچھے نماز ہو جائے گی جو نہ یہ کہ خود سنیما دیکھنے کا عادی ہو بلکہ اپنے متعلقین کوبھی سنیما دکھانے کا شوقین ہو اور کسی کے اعتراض پر یہ کہتا ہو کہ یہ فقیری لائن ہے، انگریزی بال بھی کٹوا تا ہو اور یہ کہتا ہو کہ عالم مفتی بھی انگریزی بال کٹواتے ہیں، نیز عام خاص لوگ اس کے فسق و فجور میں ملوث ہونے کی بھی شہادت دیتے ہیں ۔ وہابیوں سے سنگٹھن محض اس لئے یہ شخص رکھتا ہے کہ اگر کوئی شرعی مسائل وحقیقت بتاتا اور بیان کرتا ہے تو اس کی نفس پروری کو نقصان پہونچتا ہے۔ یہ سنی مسجد کا مؤذن ہے اور وہا بیوں میں رات دن کا ایک ایک لمحہ گزارتا ہے۔ یہ نماز ومؤذنی کے مسائل سے بھی ناواقف ہے۔ وغیرہ وغیرہ (۳) امام صاحب ٹوپی میں ہوں اور مقتدی صافہ میں تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ خطبہ میں بھی اگر ایسا ہی ہو؟ (۴) امام اگر سواری پر عید گاہ نہ جانے کا خواہشمند ہوتو یہ جبر گھوڑے پر اس کو لے جانا افضل وثواب ہے کیا ؟ (۵) نماز یا خطبہ جمعہ وعیدین یا جماعت نماز مقررہ وقت سے چند منٹ آگے پیچھے پڑھنے پڑھانے سے ادا ہوگی ؟ مثلاً ظہر کی جماعت اور خطبہ کا وقت ڈیڑھ بجے مقرر ہے اور اس سے پندرہ بیس منٹ قبل یا بعد ظہر کی جماعت یا جمعہ کا خطبہ کسی بھی باعث ہو۔ بینوا توجروا۔ فقط۔ والسلام المستفتی : نبی بخش، واحد بخش قریشی نوری رضوی سبزی و فروٹ مرچنٹ ، گاندھی پارک، اشوک نگر ، گونا
الجواب: (1) عمر و صحیح کہتا ہے اور زید کا اصرار بے جا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ایسے شخص کو امام بنانا گناہ اور اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) در مختار میں ہے: کل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اور اذان اس کی غیر صحیح ہے جس کا اعادہ کیا جائے، جبکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی در مختار میں ہے: ”جزم المصنف بعدم صحة اذان مجنون و معتوه و صبی لا یعقل قلت و کافر و فاسق لعدم قبول قولهما في الديانات - الھ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عمامہ باندھنا مستحب ہے جس کے ترک سے کراہت بھی نہیں ۔ نماز ہو جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۴) جبر کا اختیار کسی کو نہیں، افضل وثواب ہونا کیا معنی؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) نماز ہو جائے گی اگر چه تقدیم و تاخیر بلا وجہ منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ