میونسی پلٹی بورڈ کے ملازم کی امامت، لوڈو کھیلنا اور فاسق کے احکام
میونسی پلٹی بورڈ میں کام کرنے والے کی امامت کے متعلق سوال ! لوڈو کھیلنا ممنوع ہے! ملا ہی سب کے سب حرام ہیں ! لوڈو کھیلنے والا فاسق، اسے امام بنانا حرام ! فاسق کو امام بنانے والے گنہگار! فاسق سے ابتدا بسلام مکروہ ! امام و مؤذن کا حجرہ کسی کو دینا جائز نہیں!نماز کے اوقات کے علاوہ مسجد کے پنکھے چلانے کی اجازت نہیں !اسلام سے اجتناب وہابیہ کا داب ہے ! باوصف قدرت بد عقیدوں کو مسجد سے روکنا لازم !ہر موذی کو مسجد سے روکا جائے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۲) لوڈو کھیلنا لہو ولعب ممنوع ہے۔ در مختار میں ہے: دلت المسئلة ان الملاهي كلها حرام (1) اور علانیہ اس کا مرتکب بہ اصرار تکرار فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا، اس سے ابتدا بہ سلام، اسے ممبر پر بٹھانا حرام ہے۔ لوقدموا فاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (۲) غنیہ میں ہے: در مختار میں ہے: رد المحتار میں ہے: یکرہ السلام على الفاسق لو معلنا (۳) لأن في تقديمه للامامة تعظيمه وقد وجب عليهم اهانته () واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مسجد کا حجرہ جو امام و مؤذن کے لئے عرفاً معین ہوتا ہے اس کو دوسرے کو دینا جائز نہیں ، اور بلا اجرت دینا ناجائز در نا جائز اور مسجد کے پنکھے کو ان اوقات کے سوا جن میں عام لوگوں کو اجازت ہوتی ہے، استعمال کرنے کی اجازت دینا بھی ناجائز ۔ اور بجلی خرچ کرنا بھی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) سلام سے اجتناب وہابیہ کا داب ہے، اگر یہ اس کی ہمیشہ عادت ہے تو اس کا وہابی ہونا ظاہر ہے، اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے ، بعد ثبوت وہابیت اس سے احتراز شدید لازم بلکہ عند القدرة اسے مسجد میں نہ آنے دینا ضرور۔ در مختار میں ہے:
ويمنع منه وكذا كل مؤذولو بلسانه (1) الدر المختار ج ۲، ص ۴۳۵، ۴۳۶، کتاب الصلوة، باب ما يفسد الصلوة، دار الكتب العلمية، بيروت ایک مرتبہ بھی کھڑا ہونا وہابی نہ ہونے کا پہلو رکھتا ہے جو بعد استفسار ظاہر ہوسکتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ / جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ