رافضیوں سے میل جول رکھنے والا فاسق و نالائق امامت ہے اور نماز کا اعادہ واجب ہے
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ: ایک امام اپنے کو سنی حنفی کہتا ہو، اور موقع پر رافضیوں کو کافر بھی کہتا ہو، بار بار اس مسئلہ پر تکرار کرتا ہو کہ کافر ہیں، پھر انہی رافضیوں کے یہاں کھانا بھی کھائے اور سلام و کلام بھی کرے اور ان کا نکاح بھی پڑھائے اور ان کو مسلمان بھی جانے تو ایسے امام کے پیچھے دیگر سنیوں کونماز پڑھنا،نکاح پڑھوانا درست ہے یا نہیں ؟ کیا حکم شرع ہے؟ عید سے پیشتر جواب دینے کی زحمت گوارہ کیجئے گا۔ نہایت مہربانی ہوگی ۔ فقط خاکسار: اسرار حسین موضع سردار پور، ڈاکخانہ سور کی ضلع فرخ آباد
الجواب: فی الواقع اگر شخص مذکور رافضیوں سے میل جول رکھتا ہے تو سخت فاسق معلن ، اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ، کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے اور اسے امام بنانا گناہ۔ (۱) ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “ (1) در مختار میں ہے: (۲) لوقدموا فاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (۲) غنیہ میں ہے: الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳ ، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی اور اگر انہیں مسلمان کہتا ہے تو انہی کی ری میں گرفتار، انہی سے مشکل مرتد بددین ہے۔ در مختار میں ہے: وو من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱) ،، اور اس صورت میں اس کی اقتدا میں نماز باطل ہے۔ درمختار میں ہے: وان انکر بعض ما علم من الدين ضرورة كفربهافلايصح الاقتداء به اصلا(۲) اور بہر صورت اس سے میل جول حرام، جب تک کہ تو بہ صحیحہ نہ کرے۔ قال تعالى : فَلا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (۳) تفسیر احمدی میں ہے: یعنی کافروں اور فاسقوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ ،، الظالمين يعم الكافر والفاسق والمبتدع والقعود مع كلهم ممتنع “ (م) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله