حق امامت، سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا حکم اور مسجد رضا کے نام سے متعلق نزاع کا بیان
ایک صاحب حافظ وقاری ہیں، جو تر او یک پڑھاتے ہیں، قرآن سنا رہے ہیں ۔ لہذا فرض وتر پڑھانے کا حق کن کو ہے؟ (۲) امام صاحب کی سجدے میں بائیں پیر کی انگلیاں زمین پر ایک بھی نہیں لگتی جبکہ بتا یا گیا ہے کہ تین کا لگنا واجب ہے۔ (۳) زید نے کہا: یہ مسجد رضا ہے اس میں اعلیٰ حضرت کے مسلک ہی کے مطابق کام ہوگا ورنہ نام بدل دو، بکر نے کہا: ہم نے مسجد خون سے سینچی ہے، کیسے نام بدل دیں؟ زید سے کہا: تم کو بولنے کا حق نہیں ہے۔ شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ مرحمت فرمائیں۔
الجواب: (1) امام مقرر اگر صحیح خواں ہے اور مسائل طہارت و نماز سے آگاہ اور غیر فاسق ہے تو فرض و وتر وہی پڑھائے کہ وہ دوسرے سے اولیٰ ہے۔ درمختار میں ہے: ،، امام المسجد الراتب اولی بالامامة من غيره مطلقا (1) اور اگر وہ دوسرے کو جو اس سے افضل ہے، مقدم کرے تو بہتر ہے۔ اور اگر یہ امام مذکور سیح خواں نہیں یا اور کوئی مانع امامت ہے تو دوسر لائق امامت ہی امام ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) انگلیاں لگائیں، ورنہ امامت کے لائق نہیں اور نماز اُن کے پیچھے مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زید نے ٹھیک بات کہی اور بکر کا یہ کہنا کہ تم کو بولنے کا حق نہیں ہے، غلط ہے، اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ / رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ (1) الدر المختار، ج ۲، ص ۲۹۷، کتاب الصلوۃ، باب الامامة، دار الكتب العلمية، بيروت