فاسق معلن اور بد اخلاق امام کے پیچھے نماز کا حکم
کے ساتھ گستاخی سے پیش آنا اور کام کرانا جبکہ وہ جسمانی لحاظ سے معذور ہیں، غریبوں سے جو کہ معاشی حالت میں کمزور ہیں، زبردستی چھ ماہی وصول کرنا، اپنی قومی پنچایتوں میں غیر مسلموں کو بلانا اور ان سے فیصلہ کرانا، پنچایت کے عہد و پیمان کو توڑنا مسلمانوں میں ذات پات کی تفریق پیدا کرنا اور پارٹیاں قائم کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور اس کے لئے کیا حکم ہے؟ شریعت مطہرہ کے حکم سے نوازا جائے ! سائل: انورحسین ، موضع دھنتیا، پوسٹ فتح گنج ضلع بریلی
الجواب: اگر وہ باتیں جو درج سوال ہوئیں، امام پر شرعاً ثابت ہیں تو وہ فاسق معلن ہے اور امامت کے لائق نہیں ۔ اسے امام کرنا گناہ ہے، اس کی افتد امکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ۔ غنیہ میں ہے: ”لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهةتحريم (1) در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) اور اگر یہ باتیں شرعاً اس پر ثابت نہیں تو ملزم وہ ہیں جو اُسے بے وجہ شرعی متہم کر رہے ہیں، تو بہ کریں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۲ھ