زنا کے مرتکب کی امامت کا حکم اور ثبوتِ زنا کے حوالے سے شرعی ہدایات
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ: زید ایک مسجد کا امام ہے اور اس نے ہندہ سے زنا کیا بکر نے ان کو یعنی زید اور ہندہ کو زنا کرتے پکڑا اور بکر نے زید اور ہندہ کو مارنا چاہا تو زید اور ہندہ نے بکر سے یہ کہا کہ تم کو خدا و رسول کا واسطہ دیتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں کہ اب کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے، اب آپ کسی کو نہ بتا ئیں تو بکر نے زید سے کہا کہ تم اس گاؤں سے چلے جاؤ، زید گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔ جب گاؤں والوں کو معلوم ہوا کہ امام صاحب چلے گئے تو تمام گاؤں والوں نے بکر سے کہا کہ تم نے امام کو بھگایا ہے اب تم امام لا کر دو، بکر نے کہا ہم نے امام کو نہیں بھگایا بلکہ انہوں نے زنا کیا اس لئے وہ چلا گیا تو پھر گاؤں والوں نے تمام لوگوں کو بلا کر بکر کو قسم کھلوائی کہ تم اپنے لڑکے کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ زید اور ہندہ نے زنا کیا اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس نے قسم کھائی تو تمام لوگوں نے مان لیا۔ کچھ دنوں کے بعد پھر گاؤں والوں نے زید کو بلا لیا اور اس کا ساتھ دینا شروع کیا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔ زید نے زنا کرنے کے بعد تو بہ بھی نہیں کی۔ کیا زید کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟ یا نہیں؟ زید کے بارے میں از روئے شرع کیا حکم ہے؟ اور تمام لوگ جو زید کا ساتھ دے رہے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں از روئے شرع کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی: محمد نور گولڑ یا محمد حسین ضلع بریلی شریف، اتر پردیش ( انڈیا )
زنا کا مرتکب سخت گنہگار اشد حرام کار، ایسے کی امامت ناجائز ، اقتدا مکروہ، نماز واجب الاعادہ ہے ابعد تو بہ و صلاح حال لائق امامت ہوگا فاسق کی شہادت بعد تو بہ ظہور صلاح کے بعد قبول ہوگی از نا کا ثبوت کب ہو گا؟ بے ثبوت شرعی کسی کی طرف گناہ کی نسبت جائز نہیں ! زنا کی تہمت لگانے والوں پر قرآن کی وعید ! زید فی الواقع اگر زنا کا مرتکب ہوا تو سخت حرام کار، اشد گنہ گار، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوا۔ اس کا یہ جرم اگر ثابت ومشتہر ہے تو وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنا نا گناہ۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ پھیرنی واجب ہے۔ در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) یہ اس صورت میں ہے کہ اس نے اپنے جرم کا اقرار گواہان عدول یا مجمع عام میں کر لیا ہو۔ اس صورت میں بے تو بہ ظاہرہ اسے امام نہ کیا جائے گا اور بعد تو بہ بھی اس وقت جب اس کا ایک مدت کے بعد صلاح حال ظاہر ہو جائے۔ عالمگیری میں ہے: الفاسق اذا تاب لا تقبل شهادته مالم يمض عليه زمان يظهر عليه اثر التوبة-الخ“ (۳) مگر سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کا جرم مشتہر تو در کنار ، ہرگز ثابت بھی نہیں۔ زنا کا ثبوت بہت دشوار ہے جس کے لئے چار گواہان عدول سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھنے کی شہادت درکار ہے۔ اور وہ یہاں مفقود، اور خود اس زید کا اقرار بھی یہ فریقین شرعی ثابت نہیں ، تو یہ گناہ کبیرہ کی نسبت ایک مسلم کی طرف بے ثبوت شرعی ہوئی جو خود گناہ ہے اور گناہ وہ بھی زنا کی تہمت جس کے متعلق خاص طور پر ارشاد ہوا: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَنِيْنَ جَلْدَةً (1) غنية المستملى شرح منیۃ المصلی، ص ۵۱۳، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۷ ، ۱۴۸، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطبع دار الكتب العلمية، بيروت (۳) الفتاوى الهنديه ، ج ۳، ص ۴۰۲، کتاب الشهادات ، باب فيمن لا تقبل شهادته لفسقه، دار الفکر بيروت ولا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدأَ - الآية )) یعنی اور جولوگ پارسا عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ نہ لائیں ، ان کو اسی کوڑے مارو اور اُن کی گواہی نہ سنو ۔ تو صورت مسئولہ میں تو بہ بکر پر ہے اور زید کی اقتدا جائز جبکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ وہ اقرار نہ کرتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۹ / رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ الجواب صحیح والمجیب نبی ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی