بے شرع حافظ کو امامت کے لیے بلانے والے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے اور اسے نذرانہ دینے کا شرعی حکم
دوسرے حافظ لا رہے ہیں، ہم لوگوں نے پوچھا کہ وہ حافظ باشرع ہیں؟ تو حافظ صاحب نے کہا کہ وہ حافظ بے شرع ہیں ؟ ہم لوگوں نے ان سے کہا کہ جب وہ بے شرع ہیں تو ان کو تراویح پڑھانے کے لئے مت الانا، ان کے پیچھے نماز نہیں ہوگی۔ دوسرے آپ کے یہاں سے ایک اشتہار بھی پہنچا جس میں صاف لکھا ہوا تھا کہ بے شرع حافظ کے پیچھے نماز نہیں پڑھنا چاہئے ، اگر پڑھے گا تو اعادہ کرنا ہوگا ، اور تو بہ کرنا ہوگی۔ لیکن ہمارے یہاں کے حافظ صاحب نے آپ کے یہاں کے اشتہار کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی اور خود بھی اس بے شرع حافظ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ لہذا ایسے حافظ جو کہ مسئلہ کو نہ مانیں، دوسرے پیر سے معذور بھی ہوں ، ایسے حافظ کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ (۳) ایسے بے شرع حافظ کونذرانہ دینا کیسا ہے؟ جو کہ رواجاً رمضانوں میں حافظوں کو دیتے ہیں۔ حکم شرع سے مطلع کیجئے گا۔
الجواب: المستفتی : نجم الدین وحاجی رضا ءالدین موضع مجید یا دلیل ، ڈاکخانہ موہن پور ضلع بریلی شریف حافظ مذکور جس نے بے شرع حافظ کو امامت کے لئے بلا یا سخت گنہ گار مستحق عذاب نار ہے، تو بہ کرے، بغیر تو بہ کے وہ لائق امامت نہیں، اسے امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے: ،، لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) اور اس کی اقتدا میں جو نمازیں پڑھیں، وہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہیں، انہیں پھیرنا لازم ۔ در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “(۲) یہی حکم اس بے شرع حافظ کا ہے، اسے علیحدہ کیا جائے اور نذرانہ کا وہ مستحق نہیں، پہلے امام کا لنگ مانع اقتدا نہیں ہے، نماز اس کے پیچھے صحیح ہو جائے گی۔ در مختار میں ہے: کتنا الصلوة / باب الامامة و قائم بأحدب و ان بلغ حدبه الركوع على المعتمد، وكذا باعرج وغیرہ اولی) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ ر رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ