نا بالغ کی اقتدا فرض و نفل کسی میں صحیح نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: مدتوں سے ایک مسجد قلعہ تھانہ میں ویران تھی ، زید نے بحیثیت متولی ہونے کے اس مسجد کو آباد کیا۔ اب زید کی یہ تمنا ہے کہ رمضان شریف میں اس مسجد میں کلام پاک ختم کروائے۔ لہذا زید ایک نابالغ حافظ کو کلام پاک سنانے کے لئے تیار کیا، اس کے بعد زید کو ایک عالم نے یہ کہا کہ نابالغ کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ اس پر زید کہتے ہیں کہ ہم اس حافظ کے پیچھے نفل کے اعتبار دورکعت نماز میں کلام پاک سن لیں گے اس کے بعد پھر بیس رکعت سورہ تراویح پڑھیں گے۔ لہذا علمائے دین سے سوال ہے کہ زید کا یہ کہنا از روئے شرع کیسا ہے؟ اور اس نابالغ کے پیچھے دورکعت نماز میں کلام سنا کیسا ہے؟ مدلل جواب درکار ہے۔ المستفتی : عبد الحق اشرفی
الجواب: عالم کا کہنا درست ہے، نابالغ کی اقتد افرض و نفل دونوں میں صحیح نہیں۔ ہدایہ میں ہے: ”والمختار انه لا يجوز فی الصلوات كلها ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی