امام کے استعفیٰ اور گاؤں میں امامت کے تنازع سے متعلق سوال کا بقیہ
کے بارے میں نہیں کی گئی۔ اگلے جمعہ کو مولوی صاحب نے نماز کے پہلے اعلان کر دیا کہ میں آج سے مکتب اور مسجد کی امامت سے استعفیٰ دے رہا ہوں اور یہ بھی کہا کہ ہر حال میں گاؤں کے ساتھ ہوں۔ پھر ظاہر ہے کہ گاؤں والوں کو ایک امام کی ضرورت در پیش تھی لہذا جو گاؤں کے پہلے امام تھے جنہوں نے پچیس سال تک امامت کی ، ان کو امامت کے لئے لایا گیا۔ جیسے ہی پرانے امام منبر پر کھڑے ہوئے ٹھیک اسی وقت مولوی غلام رسول مسجد سے نکل گئے اور اسی وقت گاؤں کے آدمی بلوائے گئے ، عابد قریشی نام کے ایک آدمی نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کیوں بھاگے؟ مولوی صاحب کا جواب تھا کہ ہماری نماز اس امام کے پیچھے نہیں ہوگی۔ عابد قریشی کا اگلا سوال مولوی صاحب سے یہ تھا کہ کوئی ایسا حل ہے جس سے کہ آپ کی بھی نماز ہو جائے اور اس کی بھی ؟ مولوی نے کہا کہ ہاں، ایک حل ہے، جس امام کو لائے ہو وہ صرف خطبہ پڑھے، امامت میں کروں گا۔ چنانچہ سب کچھ انہیں کی مرضی کے مطابق کیا گیا۔ بعد نماز عابد قریشی نے کہا کہ جب مولوی صاحب نے استعفیٰ دیا تو گاؤں والوں نے کوئی جواب نہیں دیا، گاؤں کے ہی شفیع نام کے ایک آدمی نے کہا کہ بھئی ایک مولوی ہیں پڑھانے کے لئے ۔ اور یہ بھی کہا کہ جہاں قریشی ہوں گے وہاں فتنہ فساد ہوگا۔ قریشی گویا کسی کے دوسرے ڈیپ پر رہتے ہیں۔ وہ سب نماز ہمارے ہی گاؤں میں پڑھتے ہیں۔ محمد شفیع کے اتنا بولنے پر دوسرے ڈیپ نے جو قریشی ہیں وہ سب کہنے لگے کہ ہمیں اس مسجد سے بھگا رہے ہیں اور اب ہمارے گاؤں کی مسجد میں قطعی نماز پڑھنے نہیں آتے ہیں۔ اور قریشی لوگ مولوی غلام رسول سے ملے ہوئے ہیں، وہ بھی مسجد میں نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ ایک اور بات یہ ہے کہ فی الحال جو مسجد کے امام ہیں، انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی تو مولوی غلام رسول اسی امام کے پیچھے نماز جنازہ پڑھ لئے تو گاؤں والے جو سیدھے سادے ہیں ، انہوں نے سوچا کہ مولوی غلام رسول کو گاؤں والوں سے اور نہ جو امام فی الحال ہیں ان سے کوئی نفرت ہے، نفرت ہے تو صرف مسجد سے ۔ تو ہمیں خود غلام رسول سے نفرت ہے ان کے جتنے لواحقین متعلقین ہیں ان سے بھی نفرت ۔ فی الحال گاؤں کے سبھی حضرات مولوی غلام رسول سے بالکل بے تعلق ہیں ۔ جواب کا منتظر بشمس الدین سنی جنگو ا ضلع گونڈہ ( اتر پردیش)
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ اس شخص نے جس امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا، اس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو اگر اس کی کوئی وجہ معقول و منقول عند الشرع نہیں بتا تا ہے تو اس کی فتنہ سازی اسی سے ظاہر ہے اور اس کے ہمنوا اُسی کی رسی میں بندھے ہیں، ان سب پر تو بہ لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله