کمز ور آنکھ والے اور غیر تجوید داں عالم کی امامت کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) جس شخص کو اتنا کم نظر آتا ہو کہ وہ اپنے کپڑے کی نجاست نہ دیکھ پائے ، اس کے پیچھے نماز صحیح دیکھنے والوں کی ہو جائے گی یا نہیں؟ (۲) ایک شخص عالم تجوید بالکل نہیں جانتا، اس کے پیچھے علم تجوید جانے والوں کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ فقط
اقبال احمد موضع مونڈ یا نصیر ڈاکخانہ مونڈ یا نبی بخش ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (۱) ہو جائے گی بشر طیکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو اور اگر اس جگہ اس کے سوا کوئی جامع شرائط امام نہ ہو تو وہی امام ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر صحیح پڑھ سکتا ہے تو نماز ہو جائے گی ورنہ نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۵۳۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بعذر شرعی ۱۲۰ ردنوں سے کم کا حمل گرانا جائز ہے، ایسا کرانے والے کی اقتدا چھوڑنا اس وجہ سے جائز نہیں!
باب: کتاب الصلوٰۃ
عورت کو بھگا کر لانے والے امام کی توبہ کے بعد امامت کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کے استعفیٰ اور گاؤں میں امامت کے تنازع سے متعلق سوال کا بقیہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کے جھوٹ بولنے اور مسجد میں وقت کی پابندی سے متعلق حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
منکوحہ کا نکاح دوسرے مرد سے پڑھانے والے امام کی امامت اور توبہ کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ