امام کے جھوٹ بولنے اور مسجد میں وقت کی پابندی سے متعلق حکم
وعدہ کیا تھا کہ میں اپنی اجرت میں سے ایک کو متل اناج ہمیشہ مسجد کو دیا کروں گا کیونکہ مسجد میرے دروازے پر ہے مجھے تو ویسے ہی اس کی تیمارداری کرنا پڑتی ہے۔ لہذا اب امام صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تو صرف ایک ہی کو شٹل کو کہا تھا لہذا لوگوں کو ان کا جھوٹ ظاہر دیکھ کر بہت ناگوار ہوا اور ایک لڑکا بولا میں اس جھوٹے مولانا سے نہیں ملوں گا کچھ لوگوں نے لڑکے اور مولانا کو ملا بھی دیا اب اس لڑکے پر کیا جرم ہوسکتا ہے؟ (۲) امام صاحب نماز ہی کے ٹائم پر مسجد میں آتے ہیں، دن بھر نہ معلوم کہاں رہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں اور نہ حجرے میں ہوتے ہیں۔ ان سب سوالوں کا جواب قرآن اور حدیث کی روشنی میں دیکھ کر جواب دیں گے۔ عین مہربانی ہوگی۔ اس کا امامت کرنا کیسا ہے؟ المستفتی: سکندر شاہ بن الفت شاہ بکنیا صالح، تھانہ دیور نیا، پوسٹ د توده در جپورہ تحصیل بیری، بریلی
(1) فی الواقع اگر امام نے جھوٹ بولا ، گناہ گار ہوا، اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) اس پر کوئی الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ