عورت کو بھگا کر لانے والے امام کی توبہ کے بعد امامت کا شرعی حکم
جمله مسلمانان پتھر کوٹ نے مسجد میں امامت کے لئے ایک امام رکھا، امام مذکور ایک بے طلاقی عورت لے کر بھاگ آئے بعدہ اس کا شوہر اور ہندہ کا والد تلاش کرنے کے لئے پتہ لگاتے ہوئے پہنچے اور ہم تمام لوگوں سے پوری بات تفصیل کے ساتھ بتائی تو ہم جملہ مسلمانان پتھر کوٹ نے ہندہ کو واپس کر دیا۔ اب اس کا آپس میں بڑا خلفشار ہوا کہ ان کے پیچھے نماز درست نہیں ہے تو امام مذکور نے اپنے اس فعل قبیح سے تو بہ کر لی ہے اور امام نے مسجد کے اندر سب کے سامنے تو بہ کی ہے۔ تو اب سوال طلب ہے ہے کہ ہم لوگ امام مذکور کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ بحوالہ قرآن وحدیث مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ المستفتی : قاری سمیع اللہ خاں دل بہار بیٹری کمپنی کچھی نگر بڑھنی بازار، بستی (یوپی)
الجواب: فی الواقع اگر امام نے تو بہ صحیحہ کر لی ہے اور اس کا صلاح حال ظاہر ہے تو اس کی اقتدا میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ رشوال المکرم ۱۴۰۳ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی