عملیات کرنے والے اور فال دیکھنے والے امام کے پیچھے نماز اور وعظ سننے کا حکم
زید صحیح العقیدہ سنی ہے، حد شرع میں داڑھی بھی رکھتا ہے،شہر کی جامع مسجد میں نماز بھی پڑھاتا ہے، جمعہ کے خطبات بھی دیتا ہے، گیارہویں، بارہویں کی تقریبات میں وعظ بھی کرتا ہے لیکن فرصت کے لمحہ میں عملیات کے کام بھی کرتا ہے مثلاً گھروں کی بندش، دکان کی بندش، عورتوں کو خود نہاوند ڈالنا اور دوسروں پر ڈالنے کے لئے پانی پر دم کر کے دیتا، بکرے اور مرغ کا خون لے کر اس پر عمل کرنا ستارا دیکھنا ( گو قال بھی دیکھتا ہو ) ، تعویز نویسی، فلیتے لکھنا اور کچھ چیزیں زمین میں دفن کرنے کے لئے لوگوں کو دینا وغیرہ وغیرہ۔ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے؟ اس کا امام بن کر رہنا صحیح ہے؟ اور اس کی وعظ ونصیحت کا سننا جائز ودرست ہے؟ برائے کرم از روئے شرع تفصیل سے مطلع کیجئے ۔ فقط والسلام المستفتیان : غلامان اولیاء کمیٹی سنی چوک لشکر محلہ، میسور (کرناٹک)
خود نہاوند ڈالنے سے کیا مراد ہے؟ اور فال کھولنا نا جائز و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۳ /رجب المرجب ۱۴۰۶ھ صح الجواب ! جائز تعویذات جائز طور سے دینے میں اصلاً حرج نہیں ہے، ستارا دیکھنا، فال کھولنا وغیرہ مناسب در وا نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی