غیر مسلموں کو مرید کرنا باطل محض ہے!
(۱) کچھ حضرات اپنے کو پیر طریقت کہتے ہیں اور نائب رسول کہلاتے ہیں، غیر قوم کے لوگوں کو مرید بھی کرتے ہیں حالانکہ وہ دیگر قوم اپنے ماضی کے مذہب میں ہی رہتے ہیں، دائرہ اسلام کی کوئی جھلک ان میں نمایاں نہیں ہوتی ہے اور نہ ان کی اصلاح کی جاتی ہے۔ کیا ایسے لوگوں کے ہاتھ پر ہم اہل اسلام مرید ہو سکتے ہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیے۔ (۲) چونکہ شجرہ شریف بھی جملہ لوگوں کو دیا جاتا ہے وہ لوگ جن کی لاش جلائی جاتی ہے کیا وہ لوگ شجرہ کو بھی نہ جلائیں گے، اگر جلایا گیا تو اس کی یعنی خطا کی سزا کس کو ملے گی؟ ایسے پیر ومرشد کے لئے توبہ لازم ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں (۳) ایک نائب رسول مطلق قوالی سننا حدیث سے ثابت کر کے جائز قرار دے رہا ہے، کیا یہ درست ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیا اس شخص پر کچھ حکم عائد ہوگا؟ اس کا جواب مع دلائل کے قرآن وحدیث سے عطا فرمائیں۔ (۴) کچھ لوگ اپنے روپیہ کو بینک میں جمع کرتے ہیں، اس سے جو منافع یعنی سود ملتا ہے ، اس کو اپنے اخراجات میں لا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس کا بھی جواب عنایت کر دیں۔ فقط خاکسار: رجب علی خازن، مدرسہ تعلیم الاسلام قصبہ اکبر پور، پوسٹ ضلع کانپور ( اتر پردیش)
الجواب: (1) غیر مسلموں کو مرید کرنا باطل محض ہے کہ یہ ارادت خاصہ دنیاو آخرت میں برکت کے حصول کے لئے خاص انہیں کے لئے ہے جو مرشد عام (قرآن) کے مرید ہیں اور وہ مسلمان جوقرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔ آخرت کی برکت اور وصول الی اللہ انہیں کا حصہ ہے، کافر کہ قرآن ہی پر ایمان نہیں رکھتا، اسے یہ ارادت خاصہ خدا تک کیا پہنچائے گی؟ اور اس کا وہ پیر اس کے کیا کام آئے گا ؟ بلکہ اسے موصل الی اللہ سمجھ کر خود فریبی میں مبتلا اور وہ پیر اس زعم میں حقیقت سے محروم اور اسی کی طرح بے دین ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے شک تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مروجہ قوالی حرام ہے۔ حضور علیہ السلام نے باجے حرام فرمائے ۔حدیث میں ہے: ،، امرنی ربی عزوجل بمحق المعازف (1) مجھے میرے رب نے باجوں کو مٹانے کا حکم دیا۔ اسے حدیث سے ثابت بتانا افتراء ہے، تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہ سود نہیں بلکہ جائز وحلال ہے، ہر جائز کام میں خرچ کرنا جائز ہے کہ حربی کا فر سے جو کچھ اس کی رضا سے بے ذلت نفس و بدعہدی ملے ، خالص مباح ہے۔ ہدایہ میں ہے: "لأن ما لهم مباح في دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا ،، اذا لم يكن فيه غدر “(۲) اور یہاں کے کفار حربی ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۲۲ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی