حضور مفتی اعظم ہند کے فتویٰ کو نہ ماننے والے اور ان سے بغض رکھنے والے امام کا شرعی حکم
بستی میں نہیں ہوئی تو بستی کے تمام لوگ ترک جماعت کر کے گنہگار ہوں گے۔ ہماری مسجد میں جو امام صاحب ہیں ان سے ہم نے کہا کہ ہمارے مفتی اعظم صاحب کا فتویٰ جمعہ کے بارے میں ہے، اس کو تم پڑھو۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا میں نے ایسے فتوے بہت دیکھے ہیں اور فتویٰ کو نہ دیکھا اور نہ ہی اس پر عمل کیا اور بدستور جمعہ پڑھا رہے ہیں اور ظہر کی نماز جماعت سے نہیں پڑھتے ہیں اور اس سے پیشتر جو امام صاحب تھے وہ جمعہ کے بعد ۴ فرض ظہر کے جماعت سے پڑھاتے تھے ، ان کو گاؤں والوں نے الگ کر دیا اور جو موجودہ امام صاحب ہیں ان کو الگ بھی نہیں کرتے اور نہ ان کو فتویٰ پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ گاؤں کے زیادہ لوگ ان کے ساتھ ہیں اور ہم لوگ نہیں۔ (1) موجودہ امام صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے جبکہ انہوں نے مفتی اعظم ہند کے فتوی کو نہیں مانا اور کہا کہ میں نے ایسے فتوے بہت دیکھے ہیں ۔ (۲) جو لوگ ان کا ساتھ دیتے رہتے تھے ، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور ہم لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہم لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہیں؟ (۳) گاؤں میں جمعہ کن شرائط کے ساتھ پڑھا جاوے؟ مکمل تفصیل کے ساتھ فرما یا جاوے۔ (۴) پیشتر امام کا طریقہ ٹھیک تھا یا موجودہ امام صاحب کا؟
الجواب: المستفتی: عبدالغنى (1) وہ شخص سخت گنہ گار مستوجب نار ہے، اس کا وہ جملہ بہت سخت ہے جس سے اس کا عناد ظاہر ہے اور حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ سے بغض آشکار ہے اور عالم سے بے وجہ شرعی بغض بہت سخت ہے جس پر اندیشۂ کفر ہے۔ ہندیہ میں ہے: من ابغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر (1) اور محض بغض کی وجہ سے حکم شرعی کو نہ مانا گمراہی اور اگر اہانت مقصود ہوجیسا کہ جملہ کے تیور سے ظاہر ہے تو کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الفتاوى الهندية، كتاب السير ، موجبات الكفر انواع، ج ۲، ص ۲۸۲ ، دار الفکر، بیروت (۲) وہ لوگ سخت گنہگار ہیں اور وہ امام لائق امامت نہیں ہے، اس کی اقتدا سے پر ہیز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴،۳) گاؤں میں جمعہ نہیں مگر جہاں پہلے سے جمعہ قائم ہو اس جگہ مصلحتا عوام کو روکا نہیں جاتا کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں جو ایک مذہب پر بیج ہوتا ہے، اگر چہ ہمارے مذہب حنفی میں درست نہیں۔ عوام کو روکنے سے اندیشہ ہے کہ وہ پنجوقتہ بھی چھوڑ دیں گے۔ ہاں بعد جمعہ چار رکعت به نیت فرض ظہر باجماعت پڑھ لیں کہ وہ سر پر نہ رہے۔ یہاں سے ظاہر کہ امام سابق کا طریقہ درست تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله