فرضی قبر کی زیارت کو جانا اور اس کے عرس میں شرکت کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین وملت اس مسئلہ میں کہ ایک غیر مزروعہ زمین عرصہ دراز سے بیکار پڑی ہوئی تھی جس کے بارے میں غیر مسلموں کا یہ خیال تھا کہ یہاں کچھ ہے۔ اسی علاقہ میں ایک پیر صاحب کا آنا ہوا جو بظاہر متقی پرہیز گار ہیں، انہوں نے اس زمین پر مراقبہ کیا اس کے بعد کہا کہ یہاں ایک بزرگ کی قبر ہے پھر قبر کی انہوں نے نشاندہی کی مگر اس علاقہ کے بڑے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ ہمارے علم میں یہاں کبھی کوئی قبر نہیں تھی اور اپنے بڑے بوڑھوں سے بھی وہاں قبر ہونے کے بارے میں کبھی نہیں سنا گیا۔ پیر صاحب کی بتائی ہوئی جگہ پرلوگوں نے شاندار پختہ قبر بنادی ہے۔ عرس ہوتا ہے، قوالیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس قبر پر فاتحہ پڑھنا، اس کے عرس میں شرکت کرنا یا کسی طرح اس کا تعاون کرنا اور علماء کو وعظ کے لئے اس عرس میں جانا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا المستفتی: زین الله همتی مدرس انوار الرضا، گوند (یوپی)
الجواب: وہ قبر فرضی ہے، اس کی زیارت کو جانا حرام ہے ۔ حدیث میں ہے: لعن الله من زار بلا مزار (۱) اور وہاں فاتحہ پڑھنا منع اور ایسے عرس میں شرکت کرنا بھی ممنوع ۔ حدیث میں ہے: ” من كثر سواد قوم فهو منهم “ (۲) جو کسی قوم کی تعداد کو بڑھائے وہ انہی میں سے ہے (۱) فتاوی عزیزی بحوالہ کتاب السراج، بروایت خطیب ، ج ۱، ص ۲۶۹، مجیدی کانپور (۲) کنز العمال، كتاب الصحبة الباب الاول في الترغيب فيها ، الحدیث ۲۴۷۳۰، ج ۹، ص ۱۱ اور اس میں تعاون ناجائز۔ قال تعالى : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۸ / ربیع الاول ۱۴۰۲ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف