خیانت کرنے والے امام، غلط قرأت، مدرسہ میں مسجد کی تعمیر اور غیر مسلم کے چندے کے احکام
(۵) ایک ایسا امام جس نے مدرسہ حنفیہ کی رسید لی اور آج تک اس کا حساب نہ پیش کر سکا، کافی دباؤ اور شدید مطالبہ پر رسید لایا بھی تو اس میں سرقہ پایا گیا یعنی اس طرح کہ دس رو پید کی رسید لی گئی لیکن معنی پر ایک ہی روپے درج پایا گیا اور بعض بعض جگہ مٹی پر بالکل اتار انہیں گیا اور خود سے من چاہی رقم درج کر دی گئی ہے۔ اب ایسے امام کا از روئے شرع حکم بتایا جائے جس نے اس طرح کی خیانت کی ہو۔ اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟ (۶) ایک ایسا امام جو قرآت سے نابلد ، ناواقف تلفظ میں فحش غلطیاں کرتا ہو اور امامت کا شوقین ایسا کہ عالم اور حافظ کی موجودگی میں بھی پیش قدمی کرنے میں تامل نہیں کرتا۔ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ نیز اس کی امامت کی حمایت کرنے والے لوگوں کا کیا حکم ہے؟ (۷) جامعہ حنفیہ غوثیہ سے قریب ایک مسجد ہے جس کے امام اور مصلیان ایسے تنگ دل ہیں کہ جامعہ کے مدرسین اور متعلمین کے لئے یہ نہیں چاہتے کہ یہ لوگ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آویں جیسا کہ ان کے روز مرہ کے عمل سے ظاہر ہے۔ اب ایسی صورت حال میں اراکین جامعہ مدرسہ کے احاطے میں ایک مسجد بیت کی طرح مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس میں درس حدیث، درس قرآن کے علاوہ نماز پنجگانہ بھی ادا کی جائے گی ۔ آیا ایسا کرنا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ (۷) غیر مسلم کا چندہ مسجد میں لگانا جبکہ بے سوال کے آجائے اور وہ اپنی خوشی سے دے دے یا خوشی سے مزدوری نہ لے، چھوڑ دے تو از روئے شرع کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا المستفتی خلیق احمد اعظمی صدرالمدرسین جامعہ حنفیہ غوثیہ، بنارس
الجواب: (۱) مشتر کہ زمین کا خاص وہ حصہ جو شر کا ء نے دوسرے شریک کے حصہ سے مفر و جدا کر کے مدرسہ والوں کو بیچ دیا اس پر تعمیر مدرسہ جائز ہے کل زمین پر تعمیر کرنا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ناجائز ہے جبکہ کل زمین پر تعمیر ہورہی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) رام لیلا وغیرہ رسوم مشرکاں پر خوش ہونا یا انعام دینا حرام بد کام کفر انجام ہے۔ ہدیۃ المهتدین چلی میں ہے: "موافقة الكفار في اقوالهم وايامهم الخاصة بهم كفر جو شخص ان افعال کا مرتکب ہوا اس پر تو بہ وتجدید ایمان لا زم ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور شراب نوشی و بدکاری سے بھی تو بہ صحیحہ فرض ہے اور جب تک بعد تو بہ اس کا صلاح حال ظاہر نہ ہو جائے وہ اپنے منصب سے شرعاً معزول رہنے کا مستوجب اور اس کا عزل عند القدرت واجب۔ در مختار میں ہے: وينزع وجوبالوالواقف فغيره بالا ولی غیر مامون او عاجزا او ظهر به فسق (۱) ہندیہ میں ہے: ”الفاسق اذا تاب لا تقبل شهادته مالم يمض عليه زمان يظهر عليه اثر التوبة والصحيح ان ذلك مفوض الى رأى القاضی (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) سخت گناہ گار ہیں تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اگر خیانت ثابت و مشتہر ہے تو وہ نالائق امامت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) بر تقدیر صدق سوال سخت ممنوع کہ اپنی نمازوں کو معروض فساد کرنا ہے کہ جب وہ قرآت سے ناواقف غلطی کا عادی ہے تو ایسی غلطی اس سے کوئی بعید نہیں کہ مفسد نماز ہو اور اس کی حمایت سخت گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) جائز ہے جبکہ محض نیاز مندانہ دے اور رسوم شرک میں اس کا بدلہ مسلمانوں سے نہ چاہتا ہو اور بچنا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ! ۱۲ شوال المکرم ۱۴۰۳ھ مسجد میں کافر کا پیسہ نہ لگائیں ۔ حدیث میں ہے: ”ان الله طيب لا يقبل الا الطيب“ (۱) الدر المختار، كتاب الوقف، ج ۲، ص ۷۹، ۷۸، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الفتاوى الهندية، كتاب الشهادات ، ج ۳، ص ۴۶۸ ، دار الفکر بیروت بیشک اللہ تعالیٰ پاک وطیب ہے اور وہ پاک مال قبول فرماتا ہے ۔ ہاں، اگر وہ کسی مسلمان کو دے دے اور وہ مسلمان اپنی جانب سے مسجد کو دے تو اب جائز و درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی