قضا نمازوں کا بوجھ، توبہ کا طریقہ اور دیہات میں جمعہ و دیگر مسائل
اپنی غلطیوں پر نادم اور تائب ہو کر پنجگانہ نماز ادا کرنا چاہتا ہے؟ مگر اس کا کہنا ہے کہ چھوٹی ہوئی نمازوں کا کیا اور کیسے حساب ہوگا ؟ وہ مجھ سے ادا نہیں ہو سکتیں۔ اس لئے اس نماز کا کیا راستہ ہو گا؟ مجھے کوئی اطمینان دلا دیتا تو میں آج سے پنجگانہ نماز ادا کرتا اور ان شاء اللہ کوئی راستہ نکل گیا تو آج سے میں نماز قضا نہیں کروں گا۔ اگر بوجہ مجبوری قضا بھی ہو گئی تو اس کو ادا کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ! اب عرض یہ ہے کہ زید کہتا بھی ہے کہ چھوٹی ہوئی نمازیں مجھ سے ادا نہیں ہوں گی ۔ اگر کوئی دیگر راستہ شرعی نکل آیا تو میں تو بہ کرتا ہوں اور نادم ہو کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اب نماز نہیں چھوڑوں گا لہذا حکم فرمایا جائے کہ زید کے لئے کون سا راستہ ہوگا اور اس کو کیا کرنا پڑیگا کہ اس کو انجام دے کر نمازی بن جائے اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے دربار میں ماخوذ نہ کیا جائے۔ (۵) زید کا مکان شہر سے تقریباً ۲۷ کلومیٹر کی دوری پر دیہات میں ہے۔ اس کے دوسرے ٹولہ یعنی موضع میں جمعہ کی نماز ہوتی آرہی ہے مگر زید جمعہ کی نماز کو روکتا نہیں ہے، پہلے وہ خود بھی اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرتا تھا مگر اب چند وجوہات سے اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے نہیں جاتا ہے اور دیہات ہونے کی وجہ سے اس علاقہ دہی کی دیگر مسجدوں میں بھی جا کر جمعہ کی نماز ادا نہیں کرتا ہے بلکہ گھر میں ظہر کی نماز ادا کر لیتا ہے اور دوسروں کو جمعہ سے نہیں روکتا۔ یہ اس کا فعل کیسا ہے؟ ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب: لمستفتی: عبدالله شیخ پورہ محمد پور، پوسٹ مصطفی آباد ضلع سیوان (1) زید کے اقوال حق وصواب اور وہ ماجور ومثاب اور اس کا مخالف مستوجب عذاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم وعندہ ام الکتاب ۔ (۲) لاٹھی وغیرہ اگر به نیت محمودہ سیکھیں تو حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے کہ میں تحمیل امر باری تعالی ہے۔ قال تعالى : وَاعِدُ وَالَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ - الآية (1) سورة الانفال: ۶۰ اور لہو ولعب کی نیت سے ناجائز ہے اور ان دونوں میں یہ کرتب لہو ولعب کے طور پر ہی ہوتے ہیں لہذا ممانعت ہی صواب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ ان لوگوں کے اوہام و خرافات و واہیات ہیں۔ ان خام خیالوں سے جو بات شرعاً منع ہے، روانہ ہو جائے گی ۔ ہاں، اگر نعت خوانی کا جلوس شان و شوکت سے گزرے تو یہ منع نہیں اور اس میں ان کے اوہام کا علاج بھی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) قضا نمازوں کو جلد ادا کرنا لازم ہے اور ان کی ادا میں کوتاہی گناہ اور انہیں ادا کیے بغیر کوئی چارہ کارنہیں لہذا جلد ادا کرے اور قضا نمازوں کا ایسا اندازہ لگائے کہ تخمینہ میں بڑھ جائیں کم نہ رہیں اور جب قضا پڑھنے لگے یہ نیت کرے کہ وہ پچھلی نماز مثلاً ظہر یا عصر جس کا وقت میں نے پایا اور نہ پڑھی پڑھتا ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵/ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ