محرم الحرام میں پنجہ بنانا اور اسے امام حسین کے مبارک ہاتھ کی نقل سمجھنا وہم پرستی ہے
۹ رشوال المکرم ۱۴۰۶ھ پنجه دوست امام عالی مقام کی نقل محض وہم پرستی ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ ہمارے علاقہ میں عرصہ دراز سے سنی مسلمان ماہ محرم الحرام میں کاغذ ، لکڑی، بانس وغیرہ سے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضہ کے نام کی مختلف صورتیں بنا کر رکھتے ہیں اور وہاں فاتحہ خوانی وغیرہ ہوتی ہے۔ عشرہ محرم کو با قاعدہ جلوس کی شکل میں باجے وغیرہ کے ساتھ اس کا گشت وغیرہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک خاص بات جو عام طور پر ہر جگہ موجود ہے وہ اپنے پنجہ بہ پنجہ حضرت امام عالی مقام کے مبارک ہاتھ کی نقل ہے، چونکہ حضرت امام نے اپنا مبارک ہاتھ یزید پلید کے ہاتھ میں نہ دے کر اسلام کی عظمت اور ناموس رسول کی حفاظت فرمائی ہے۔ لہذا اس ہاتھ کی عظمت اور یادگار کے طور پر پنجہ بناتے ہیں۔ یہ تانبے، پیتل، چاندی وغیرہ کے ٹکڑے سے بنائے جاتے ہیں اور حضرت علی ، فاطمہ حسن ،حسین ، اور دیگر اہلسنت اور شہدائے کربلا کے نام کے الگ الگ پنجے بنائے جاتے ہیں اور ان پنجوں کے پاس فاتحہ خوانی وغیرہ ہوتی ہے۔ دسویں محرم کو بازاروں میں اس کا بھی گشت ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسالہ تعزیہ داری میں تعزیہ کو جائز فرماتے ہیں نعلین مبارک کی تصویر برائے تبرک برکت
کے لئے رکھنا جائز فرمایا ہے۔ لہذا اس پر قیاس کرتے ہوئے پنجے بھی جائز ہوں گے کیونکہ یہ غیر جاندار کی تصویر ہے اور باعث برکت بھی ہے، پنجے ناجائز ہونے کے لئے کوئی شرعی علت بھی تو نہیں۔ زید کا کہنا ہے کہ محرم میں حضرت امام عالی مقام کے روضہ مبارک کی صحیح نقل بنا کر رکھنا جائز اور باعث برکت ہے، اس کے علاوہ جتنی چیزیں تعزیہ داری کے نام سے کی جاتی ہیں وہ سب ناجائز اور خرافات و بدعات ہیں۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اتنے کی ہی اجازت دی ہے نعلین مبارک پر پنجہ کونہیں قیاس کیا جاسکتا کیونکہ پنجا اگر امام کے مبارک ہاتھوں کی نقل ہے تو یہ سراسر جاندار کی تصویر ہے، جس طرح کل بدن کی تصویر حرام ہے اسی طرح جزء بدن کی تصویر بھی حرام ہے۔ نیز امام عالی مقام کے مبارک ہاتھ کی نقل تانبے، پیتل کے ٹکڑے سے بنانا، یہ توہین ہے شہید کربلا کے مبارک و مقدس ہاتھوں کی ، امام نے آخر دم تک یزید کے ناپاک ہاتھوں میں اپنا مبارک ہاتھ نہیں دیا اور یہی پنجہ جو امام کے ہاتھ کی نقل ہے، فاسق، جاہل، بے نمازی اور شرابی کے ہاتھ میں دینا تو ہین نہیں تو اور کیا ہے؟ نعلین مبارک پر قیاس کر کے اگر پنجہ کونا جائز قرار دیا جائے تو محرم میں جتنی غیر جاندار کی تصویریں بنائی جاتی ہیں وہ سب بھی ناجائز ہونا چاہئے ، عشرہ محرم کو سیکڑوں روپیہ خرچ کر کے آگ روشن کیا جاتا ہے اور اس آگ میں پنجے لے کر کودتے ہیں، دوڑتے ہیں، اس سے غیروں میں خوف اور رعب طاری ہوتا ہے۔حضرت خالد نے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے دشمن کا دیا ہوا زہر کھا لیا تو حضرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، زندہ آگ میں کودنے والے کو اختیار ہے کہ اگر اس کو آگ میں نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو کو دسکتا ہے، اسے حرام یا نا جائز ہونے کے لئے کوئی دلیل نہیں ملتی، زید کا کہنا ہے کہ قرآن میں ہے: ”لا تلقوا بایدیکم الیٰ التہلکہ“۔ اس آیت کی رو سے اس چیز سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے جس سے جان کو خطرہ ہو۔ آگ جلانے والی چیز ہے، اس میں کو دنا خود کشی کے مترادف ہے، قرآن کی رو سے حرام ہے۔ علاوہ ازیں سیکڑوں روپئے اس آگ کے تیار کرنے میں خرچ کرنا اسراف اور حرام ہے۔ آگ میں کود کر اسلام کی حقانیت ثابت کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اگر یہ بات جائز ہوتی تو اللہ کریم اس کی اجازت دیتا، فساق اور جہال کو آگ میں کود کر تماشہ کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی ۔ المستفتی: شیخ عبد القادر اشرفی ، نائب صدر انجمن ، رہولا ضلع کاروار (کرناٹک) الجواب: مروجہ تعزیہ جسے روضہ امام عالی مقام سے اصلاً نسبت نہیں اور اس سلسلے میں مروجہ جس میں اکثر و بیشتر نا جائز و حرام ہیں۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت نے ہرگز مروجہ تعزیہ داری کو جائز نہ کہا، اعلیٰ حضرت عظیم البرکت کے فتوے سے صرف اس قدر کا جواز معلوم ہوتا ہے کہ امام عالیمقام کے روضہ کی صحیح نقل بنا کر گھروں میں باعث برکت رکھ سکتے ہیں اور پنجہ و دست امام عالیمقام کی نقل محض وہم پرستی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق۔ (صحیح البخاری )