عالموں کو برا بھلا کہنا، نماز نہ پڑھنا اور خود کو فقیر کہلانے والے کے متعلق شرعی حکم
(۳) اور وہ عالموں کو بُرا بھلا کہتے ہیں کہ عالم لوگ مردود ہیں اور خبیث ہیں اور ہم فقیروں سے کیا بحث کر سکتے ہیں عالم لوگ۔ اور اپنے کو سید کہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں روز محشر میں چالیس آدمی بخشوانا ہیں اور وہ کسی کا مرید نہیں ہے اور وہ اپنے کو فقیر کہتا پھرتا ہے۔ (۴) اور مسجد کے قریب ایک دکان ہے اور اس میں وہ بیٹھتا ہے، اذ ان اس کے سر پر ہوتی ہے، کچھ لوگ وہاں بیٹھتے ہیں، وہ نماز پڑھنے کے لئے جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ چلئے نماز پڑھ آئیں تو وہ کہتے ہیں کہ تمہیں کیا معلوم کہ فقیر نماز کہاں پڑھتا ہے اور وہ نماز پڑھنے نہیں جاتا ہے اور جو نماز پڑھنے جاتے ہیں تو یہ کہتا ہے کہ تم مولانا کی ٹرین میں گھس جاؤ جا کے میں نہیں جاتا اور یہ کہتا ہے کہ بیٹے ایک ہی رسی پکڑو یا تو عالم کی یا فقیر کی اور وہ یہ کہتا ہے کہ ہم فتویٰ مفتی اعظم ہند کا مانیں گے اور حضور مفتی اعظم ہند ہمارے خلاف فتویٰ نہیں دیں گے اور اب اس نے اپنی داڑھی کٹوا دی ہے، شرع سے کم ہے، چھوٹی کر والی ہے اور اس نے دو آدمیوں کی داڑھی رکھوائی پھر ان کی داڑھی دیکھی تو انہوں نے کہا کہ حضور آپ تو کہتے تھے کہ داڑھی شرع کے ساتھ رکھو اور آپ نے تو شرع کے خلاف کروالی ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ تم لوگ کیا جانتے ہو فقیر کے راز کو؟ برائے مہربانی اس فتوی کا مدلل جواب دیں آپ کی مہربانی ہوگی اور جو اس کے ساتھ رہتے ہیں ، ان کو کیا کرنا چاہئے؟ سائل : محمد عثمان خاں کو ہاڑا پیر ضلع بریلی شریف
الجواب: (1) بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو دشنام دینا حرام بد کام بد انجام اور اللہ کے نزد یکی بندوں کو بُرا کہنا نہایت ہولناک ہے، اس پر سخت وعید وارد کہ حدیث میں وارد ہوا : (1) ”من عادلى وليا فقد آذنته بالحرب“ جو میرے ولی کا دشمن ہو میں نے اس سے اعلان جنگ کیا۔ اور اورنگ زیب عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ اپنے زہد و تقویٰ میں مشہور و معروف ہیں تو ان کی ولایت مشکوۃ المصابیح، باب ذکر الله عز وجل، الفصل الاول، ص۱۹۷ ، مجلس بركات میں کیا شیبہ ۔ قال تعالیٰ: إِنْ أَوْلِيَاؤُنَ إِلَّا الْمُتَّقُونَ اللہ کے ولی یہی متقی لوگ ہیں۔ تو اورنگ زیب کو مردود کہنے والا خود اس لقب کا مستوجب و مستحق ہے اور ان پر خلاف شرع کا بہتان رکھنے والا خود خلاف شرع کا مرتکب ہے، تو بہ کرے ورنہ سخت عذاب نار کے لئے تیار ہور ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید جھوٹا ہے، بے وجہ شرعی کسی کو کچھ کہنا روا نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) علماء کی توہین کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر زید پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ (تجدید نکاح کا حکم اس وقت ہے جبکہ وہ نکاح شدہ ہو) اور چالیس آدمی بخشوانے کے دعوی میں جھوٹا ہے۔ ہاں فقیر ہونے کا دعوی سچ بایں معنی ہے کہ وہ ہر خیر سے محروم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نماز کے لئے بلانے پر اس نے وہ ملعون جملہ کہا جس سے مولانا کی نہ صرف مولانا کی بلکہ نماز کی تو ہین ہوئی کہ نماز کے لئے جانے کو اس نے اس جملہ سے تعبیر کیا۔ اس جملہ سے بھی تو بہ وتجدید ایمان کرے اور حد شرع سے داڑھی کم کرنا یا منڈانا حرام ہے اس سے بھی تو بہ کرے ورنہ ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے کہ اس کو چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ شوال المکرم ۱۴۰۰ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام،محلہ سوداگران، بریلی شریف سورة الانفال: ۳۴ الاشباه والنظائر ، کتاب السیر ، ص ۲۱۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت