کتابت نسواں کی ممانعت سے متعلق علمی تحقیق!
مخدوم گرامی قدر حضرت علامہ شاہ اختر رضا خاں صاحب مدظلہ العالی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته ایک استفتاء مع جواب حاضر خدمت کر رہا ہوں، جواب میں مجھے سخت اشتباہ ہو گیا ہے، میں نے اباحت کی صورت پیدا کی ہے لیکن مجھے یاد آ رہا ہے کہ ہمارے کسی مفتی نے اکابر میں سے اسے ناجائز بلکہ حرام لکھا ہے۔ بہر صورت توثیق یا شیح کے بعد میرا تعاون فرمائیں ۔ممنون کرم ہوں گا فقیرعبدالواجد قادری غفرلہ مفتی ادارہ شرعیہ، سلطان گنج ، پٹنہ (بہار) سوال: میں نے اپنے استاذ سے سنا ہے کہ لڑکیوں کو لکھنا سکھانا نا جائز ہے ۔ اس دور میں عوام کا کہنا ہے کہ آپ کو لڑکیوں کو بھی لکھنا سکھانا ہوگا اگر آپ نہیں سکھائیں گے تو ایسے علم کی ضرورت نہیں ہے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ لڑکیوں کو لکھنا سکھایا جائے یا لکھانے پڑھانے کا کام چھوڑ دوں؟ جواب سے نوازیں۔ فقط مولوی اسلام الدین، گیا
لڑکیوں کو کتابت سکھانے کی ممانعت ہے لیکن یہ ممانعت حرام، مکروہ تحریمی یا غیر جواز پر دال نہیں بلکہ کراہت تنزیہی ہے اور کراہت تنزیہی بھی صرف اس لئے ہے کہ اس سے بعض مفاسد کا اجراء ممکن ہے۔ چنانچہ علماء مانعین نے بھی ممانعت کی علت یہی بعض مفاسد کے اجراء کو قرار دیا ہے اور دلیل ممانعت ان حضرات کے نزدیک وہ حدیث ہے جو علامہ سیوطی نے بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نقل فرمائی ۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تسكنوهن الغرف ولا تعلموهن الكتابة - - الخ “ لیکن اس حدیث کو بعض ناقدین نے محمد ابن ابراہیم الشامی ( جو اس حدیث کے ایک درمیانی راوی ہیں) کی وجہ سے ضعیف کہا بلکہ ابن جوزی نے کتاب الموضوعات میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا: لا يصح محمد ابن ابراهيم الشامي كان يضع الحدیث جب مذکورہ حدیث کا مجروح و مخدوش ہونا بہ چند وجوہ علماء کے نزدیک متفق ہو گیا تو انہوں نے لڑکیوں کے لئے کتابت مباح قرار دیا اور اباحت کی تائید میں حیوۃ الحیوان“ کی اس روایت کو پیش کیا جس کو ابوداؤد اور حاکم نے بروایت صحیح نقل کیا ہے کہ ان النبی صلى الله عليه وسلم قال للشفاء بنت عبد الله علمى حفصة رقية النملة كما علمتيها الكتابة اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیم کتابت یا تعلم کتابت صرف امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے کیونکہ ام المومنین حضرت حفصہ کو کتابت سکھانے والی حضرت شفاء بنت عبد اللہ ام المومنین نہیں ہیں بلکہ با تفاق علماء اسماء الرجال، صحابیہ ہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر حسب ضرورت لڑکیوں کو لکھنا سکھایا جائے تو حرج نہیں اور عدم اجراء مفاسد کی صورت میں علمائے مانعین کے نزدیک بھی منع نہیں ہونا چاہئے کہ عدم علت عدم معلول کو مستلزم ہے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم بالصواب الجواب: ہماری شریعت مطہرہ کی عادت مستمرہ ہے کہ سد ذرائع فرماتی ہے اور اس طرح اپنی حکمت بالغہ سے مفاسد کو دفع فرماتی ہے بلکہ یوں کہئے کہ مفاسد کو ظاہر ہی نہیں ہونے دیتی اسی لئے متعدد جگہ نہ صرف یہ کہ حکم کو علت پر دائر فرماتی ہے بلکہ مظنہ علت کو نفس علت کے قائم مقام قرار دیتی ہے اور مظنہ علت پر اسی طرح حکم کو دائر فرماتی ہے جس طرح حکم ملت پر دائر ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی لئے عورت کو پردہ کا حکم ہے۔ قال تعالى : " وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَسْتَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَاب الآية ) اور حکم ہے کہ غیر مردوں سے نرم بات نہ کریں کہ دل کا روگی طمع کرلے۔ قال تعالى: فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ- الآية () سورة الاحزاب : ۵۳ سورة الاحزاب: ٣٢ اور حکم ہے کہ بجتی ہوئی پازیب نہ پہنیں۔ قال تعالیٰ: وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ - الآية (1) اسی آیت کریمہ سے علماء نے مسئلہ مستنبط فرما یا کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے۔ چنانچہ عامہ کتب فقہ میں ہے: صوت المرأة عورة“(۲) اور اسی لئے عورتوں کو تیز خوشبو لگا کر چلنے سے ممانعت ہوئی۔ کمافی الزواجر عن اقتراف الکبائر لابن حجر المکی قدس سرہ ۔ اور اسی لئے حدیث میں وارد ہوا : ویحک یا انجشة رويدك بالقوارير (۳) اسی کے تحت مجمع البجار میں فرمایا: ”خاف صلی الله عليه وسلم الفتنة - الخ“ ملتقطاً۔ دیکھئے ممانعت کی وجہ خوف فتنہ بتائی تو یہ وہی مظنہ علت کو علت کے قائم مقام کرنا ہے اور اسی لئے زنان اجاب کے چہرہ اور ہاتھ پاؤں کے سوا پورے جسم کے کسی حصہ پر نظر کرنا حرام ہوا بلکہ شہوت سے عضو منفعل کو دیکھنا بھی ممنوع ٹھہر الکمافی الدر المختار ۔ بلکہ جب خوف بڑھا تو فقہاء نے فرمایا: وتمنع المرأة الشابة (٢) اور اجنبیہ کے فرج داخل کو دیکھنا اور اشد حرام ۔ اسی طرح چھونا اور بلا حائل مانع حرارت کے چھونا اور اشد یہاں تک کہ اس طرح چھونے سے فرج داخل کو دیکھنے پر تو حرمت مصاہرت ثابت ہوئی تو یہ مسئلہ نظر مس بلا حائل دو طرح مظنہ علت ہو کر علت کے قائم مقام ہوا۔ ایک تو یہ کہ مظنہ زنا ہے تو حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ حرمت ثابت کرنے میں بالکل زنا کے قدم بہ قدم ہے تو اسباب میں منظمنہ کا نفس علت کے قائم مقام ہونا اظہر ہے اور اجنبیہ کو دیکھنا تو درکنار تصور نظر بھی ممنوع ہوا۔ اسی لئے تو کہ تصور منظمنہ نظر ہے۔ حدیث میں فرمایا: لاتباشر المرأة المرأة فتنعتها لزوجها كانه ينظر اليها اسی لئے مردوزن اجنبیہ کو خلوت میں بیٹھنا حرام ہوا بلکہ جوان ساس اور رضاعی بہن سے خلوت بھی ناجائز ٹھہری فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار ۔ انہی تمام مفاسد کو روکنے کے لئے حکم احکم رب تعالیٰ ہوا: قرن فی بیوتکن اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔ تو بلا ضرورت شرعیہ عورت کا نکلنا حرام ہوا کہ مظنہ فتنہ ہے۔ حدیث میں فرمایا: المرأة عورة فاذا خرجت استشرفها الشيطان عورت سرتا پا شرم کی چیز ہے، جب نکلتی ہے، شیطان کا گروہ اسے جھانکتا ہے۔ آمدم برسر مطلب کتابت زناں ان تمام مفاسد کی بڑی سہل تدبیر ہے۔ اب نکلنے کی کیا حاجت ہے۔ کتابت حبیبہ کا حبیب کی طرف قاصد و سفیر ہے ۔ اب بوس و کنار کی بلکہ وصل یار کی گھر بیٹھے دعوت ہے اور ایسا نہیں کہ آئندہ ایسا ہونے کا گمان ہے بلکہ ناعاقبت اندیش لڑکیوں کے قلم آئے دن بہکتے رہتے ہیں تو اب بھی کیا عورتوں کو تعلیم کتابت کی ممانعت میں شبہ رہے۔ حاشا ہرگز نہیں درایت اس کی حرمت پر ان مفاسد کے پیش نظر خود جزم کرتی ہے۔ کسی روایت کے وارد ہونے کی محتاج نہیں پھر جبکہ روایت موافقہ قواعد عقل و نقل اس کی ممانعت میں وارد ہے تو مقتضائے درایت سے عدول کیسے روا ہوگا۔ علماء بالا تفاق فرماتے ہیں : لا يعدل عن الدراية اذا وافقتهارواية پھر روایت مذکورہ جبکہ قواعد عقل و نقل کے موافق ہے اور موضوع وہ ہے جو قواعد عقل و نقل کے مخالف ہو تو علامہ ابن جوزی کا حکم وضع زیادہ سے زیادہ اس لفظ کے اعتبار سے ہے بلکہ اصلاً حکم وضع ہی نہیں کہ لایح ، مستلزم ضعف بھی نہیں چہ جائیکہ مستلزم وضع ہو اور بعد تسلیم ہم کہیں گے کہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے بہت سی احادیث صحیحہ وحسنہ پر حکم وضع فرمادیا۔ از انجملہ حدیث رد شمس وشق قمر ہے علماء نے اس پر ان کا تعقب فرمایا۔ روایت لا تعلمو من الكتابة“ کا کیا حال ہے جس کی سند میں ابن جوزی نے طعن فرمایا مگر یہ روایت به طرق متعددہ مروی ہے اور ان طرق کی قدرے تفصیل سید نا اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کے قومی مندر جہ اصلاح بہشتی زیور میں ہے۔ فقیر کو یاد آتا ہے کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا ہے کہ حدیث لا اقل حسن ہے اور ممانعت میں صریح ہے اور حدیث شفاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اباحت میں صریح نہیں بلکہ شیخ نے فرمایا کہ وہاں امر زجر کے لئے ہے تو محتمل سے صریح کے مقابل استدلال بالفرض غلط، میسیج سے محرم کے مقابل حجت لانا باطل ہے۔ فقیر بہار کے سفر پر ہے ورنہ عبارات کتب لکھتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ الجواب صحیح وصواب والمجیب مصیب ومثاب! بیشک عورتوں کو لکھنا سکھانے کی صریح ممانعت احادیث مبارکہ میں وارد ہے اور اجازت میں کوئی صریح حدیث نہیں آئی ہے اسی پر سلفا وخلفا اجلہ ائمہ واکابر امت کا عمل رہا۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں فرمایا کہ عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعاً ممنوع و سنت نصاری و فتح باب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے جس کے مفاسد شدیدہ پر تجارب عدیدہ شاہد عدل ہیں۔ متعدد حدیثیں اس کی ممانعت میں وارد ہیں جن میں بعض کی سند عند اتحقیق خود قوی اور اصل متن حدیث کے معروف و محفوظ ہونے کا امام بیہقی نے افادہ فرمایا اور پھر تعدد وطرق دوسری قوت اور عمل امت و قبول علماء تیسری قوت اور محل احتیاط وسد فتنہ چوتھی قوت تو حدیث لا اقل حسن ہے اور ممانعت میں اس کا نص صریح ہونا خود روشن ہے بخلاف حدیث شفا بنت عبداللہ کے اور اجازت میں اصلاً کوئی حدیث۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی