قربانی کے شرکاء، حکومتی سودی قرض، نبی کریم ﷺ کے حج، جنازہ کے احکام اور امام کا مصلی
نام قربانی کی جائے تو درست ہے یا نہیں؟ (۲) حکومت نے سوسائٹی کے ذریعہ ایک پلان بنایا ہے اور وہ یہ ہے کہ غریبوں کو بھینس، بکری وغیرہ کے کاروبار کرنے کے لئے روپے دیتی ہے جس کا سود ماہانہ ایک روپیہ سیکڑہ ہے لیکن سالانہ حساب کتاب کرتے وقت اصل رقم سے نہایت چھوٹ دیتا ہے۔ مذکورہ بالا صورت میں سوسائٹی سے روپیہ لے کر کاروبار کرنا درست ہے یا نہیں؟ (۳) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلان نبوت ورسالت کے بعد ۲۳ رسالہ حیات مبارکہ میں کتنی بارج بیت اللہ کیا اورکتنی بار قربانی حج کے موقع پر کی اور کتنی بارمدینہ طیبہ کی؟ (۴) جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے کلمہ شہادت کا بلند آواز سے پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ (۵) امام کا مصلی ، اندر کے محراب ہی کے لحاظ سے ( یعنی سامنے) باہر برآمدے میں یا صحن میں ہونا چاہئے یا بجائے سامنے کے ادھر اُدھر بھی ہوسکتا ہے؟ نماز میں کوئی خرابی تو نہ ہوگی ؟ مذکورہ بالا سوالوں کے جوابات مع حوالہ دینے کی زحمت فرما دیں گے۔ بینوا توجروا لمستفتی: ابوالکلام کسم کھور، فرخ آباد (یوپی)
الجواب: (1) بلاشبہ درست ہے۔ ہندیہ میں ہے: ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن اكثر من سبعة ويجوز ذلك عن سبعة واقل من ذلك وهذا قول عامة العلماء () واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کفار زمانہ حربی ہیں، ان سے لین دین صحیح نہیں مگر سود مسلم وحربی کے درمیان نہیں ہوتا۔ ہدایہ و عامۃ الکتب میں ہے: لاربا بين المسلم والحربی (۲) (۱) الفتاوى الهندية كتاب الاضحية ، ج ۵، ص ۳۴۳، دار الفکر بیروت (۲) الهداية، كتاب البيوع ، باب الربا، ج ۲، ص ۷۰ مجلس برکات مگر بے ضرورت شرعیہ حربی کو نفع پہنچانا حرام ہے۔ قال تعالیٰ: إِثْمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوْ كُمْ فِي الدِّينِ - الآية ) تو حکم حرمت کا ہوتا مگر نظر الفع کثیر مسلم اجازت ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) ہجرت سے پہلے بارہا حج فرمایا اور عجب نہیں کہ کبھی ترک نہ ہوا ہو اور بعد ہجرت صرف حجۃ الوداع میں جلوہ افروز ہوئے اور قربانی کبھی ترک نہ فرمائی مگر تو ار دنظر سے نہ گزری۔ البتہ حجۃ الوداع میں تریسٹھ اونٹ خود دست اقدس سے ذبح فرمائے ۔ [ مدارج وغیرہ] واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جائز ہے۔ رد المحتار میں ہے: ”اجمع العلماء سلفا و خلفا علی استحباب ذكر الجهر بالجماعة في المسجد وغیرہ‘ (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) امام کو مقتدیوں کے وسط میں ہونا مسنون ہے۔ محراب کی سیدھ میں ہونالازم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله