گمراہ فرقوں کے پیچھے نماز اور صلاۃ وسلام پر اعتراض کا حکم
(۳) ایک مودودی جماعت کا فرد امام بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور چند دیو بندیوں کو لے کر جماعت کرتا ہے۔ ایک معترض نے کہا کہ ابھی جماعت ہو رہی ہے، ابھی صلاۃ وسلام نہ پڑھیے اور اتنا کہ کر چلا گیا تو ایسا شخص جو دیو بندیوں مودودیوں کو مسلمان اور ان کی نماز کونماز سمجھے، وہ کون ہے؟ بینوا تو جروا (۴) صلاۃ وسلام پڑھنے والوں نے یہ سمجھایا کہ جمعہ کے دن ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ خطبہ سے پہلے علماء کرام تقریر کرتے ہیں اور لوگ سنتیں بھی پڑھتے ہیں، اس پر معترض نے کہا کہ وہ بھی ناجائز ہے۔ کیا اس کا یہ کہنا حق ہے؟ کیا بے علم کے فتویٰ دینا جائز تھا ؟
الجواب: المستفتی: عبدافتی، سٹیک پور ضلع بریلی شریف (۲،۱) نماز کے بعد مسجد میں صلاۃ وسلام پڑھنا بلا شبہ جائز و مستحسن ہے جس کے استحباب پر علمائے امت کا زمانہ قدیم سے اجماع ہے۔ رد المحتار میں ہے: ”اجمع العلماء سلفا و خلفا على استحباب ذكر الجهر بالجماعة في المسجد وغیرہ ) جو اسے ناجائز وحرام بتاتا ہے وہ مخالف اجماع، خود گمراہ بیدین ہے اور اسے جوا، زنا سے تشبیہ دینا سخت حرام بد کام کفر انجام ہے اور جس نے یہ گندا جملہ کہا وہ خود کافر بے دین ہے، اس کی امامت باطل محض اور اس کی اقتدا محض نادرست ہے اور وہ لوگ بدعقیدہ ہیں ، ان کی رعایت جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہابیہ، دیابنہ اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فرو بیدین ہیں اور مودودی بھی اسی زمرہ میں شامل ہیں کہ خود عقائد کفریہ وہابیہ کے معتقد اور دیو بندیوں کو مسلمان جانتے ہیں جو اُن کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانے ، بے شک انہی کی طرح کا فر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) مطلق نا جائز نہیں بلکہ اس صورت میں ہے جبکہ مصلی کو تشویش ہو اور اتنی آواز سے تقریر کرے که مصلی کو تشویش نہ ہو تو عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں جو مطلق ناجائز کہتا ہے، غلط کہتا ہے، اس پر تو بہ لازم (1) رد المحتار، مطلب في رفع الصوت بالذكر، ج ۲، ص ۴۳۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ رشوال المکرم ۱۴۰۴ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی