بدمذہبوں سے اتحاد اور لفظ صلوۃ کا ترجمہ لفظ نماز کرنے پر اعتراضات کا جواب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ (1) لفظ صلوۃ قرآن وحدیث کا مستعمل لفظ ہے، اس کا اردو تر جمہ کیا ہے؟ (۲) ہندوستان میں مذہب اسلام کی تبلیغ کس زبان میں ہوئی ؟ اور کس کے ذریعہ ہوئی ؟ آیا صحابہ کا دور تھا یا تابعین کا ؟ اور اس دور میں لفظ صلوۃ کا ترجمہ نماز کیا گیا یا نہیں؟ (۳) نماز کی نیت میں صلوۃ کا ترجمہ نماز کر کے نیت کرنا از روئے شرع درست ہے یا نہیں؟ ہمارے شہر لکھنو کے ہفتہ وار رسالہ ”ندائے اردو [ مؤرخہ ۷ ارمئی ۱۹۷۶ ء ] نے یہ بات شائع کی ہے جو قابل تفصیل اور درج ذیل ہے۔ ہندو پاک میں لفظ نماز کا استعمال ایک بدعتی رواج اور طریقہ کے ماسوا اور کچھ بھی نہیں۔ مسلمانان ہند میں اسے روا اور جائز بتانے والے مفتی اپنی عبادتوں پر نیت صلوۃ بہ لفظ نماز کا استعمال کرنے والے مقتدی دونوں بدعتی ہیں اور یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نماز صلوۃ کا ترجمہ ہے جس کی موجد ملکہ نور جہاں ہے، اس اعتبار سے نماز کے استعمال سے نور جہاں کی تقلید ہوتی ہے نہ کہ احکام خداورسول کی ۔ دوسری عبارت: ہم اپنے علمائے دین سے درخواست کرتے ہیں کہ جناب والا! یہ بریلوی، دیو بندی ، ندوی محلی ، اس تجارت کو ختم کیجئے، اختلاف کو فروغ دے کر دین میں مشکل اور مسلمانوں میں دوری نہ پیدا کیجئے ۔ امید کرتا ہوں کہ مذکورہ بالا عبارتوں کے مفہوم سے بخوبی واقف ہو گئے ہوں گے اور تمام فرقوں کے شخص کے بارے میں حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں گے اور اس ابھرتے ہوئے فتنہ کا ردعمل تجویز فرمائیں گے۔ بحوالہ مستند فرمائیں۔ المستفتی: محمد شفیع خان نعیمی، گوند و میشیم حال لکھنو
الجواب:(1) اس کا اردو و فارسی ترجمہ نماز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲، ۳) مذہب اسلام ہندوستان کے علاقہ سندھ میں محمد بن قاسم جو اسلامی لشکر کے ہمراہ حجاج بن یوسف ثقفی جو تابعی تھا، کے دور میں سب سے پہلے آیا پھر رفتہ رفتہ عرب و دیگر دیار سے مسلمان یہاں آتے رہے، اسلام پھیلتار باید یح پتہ نہیں کہ کس دور میں کون سی زبان میں تبلیغ ہوئی ؟ البتہ شاہان مغلیہ کے دور میں فارسی زیاد و را نبی تھی۔ اور لفظ صلوۃ کا ترجمہ نماز صد ہا قرون سے مسلمانوں میں بلا تفریق عالم و جاہل مستعمل ہے جس کی حرمت پر ہر گز شرع مطہر سے کوئی نص نہیں اور جس کی حرمت پر نص نہیں وہ ہر گز حرام و بدعت سیئہ نہیں ہوسکتا ، اسے بدعت کہنا شریعت مطہرہ پر افترا کرنا ہے جو خود حرام ہے۔ قال تعالى : "وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَلٌ وَهَذَا حَرَام - الآية ) مضمون نگار پر لازم ہے کہ وہ شریعت مطہرہ سے نماز کہنے سے ممانعت دکھائے اور اگر نہیں دکھا سکتا اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہیں دکھا سکے گا ان شاء المولیٰ تعالیٰ تو شرم کرے کہ کس پونچی پر علماء کے منہ آتا ہے؟ واللہ تعالیٰ ھو الہادی وھو تعالیٰ اعلم یہ جو مضمون نگار نے کہا کہ ” جناب والا اس بریلوی ، دیو بندی، ندوی الخ“ یہ اس کی جاہلانہ سوچ ہے، اس کا دوسراسر اصلح کلیت بلکہ سراسرلا مذہبیت ہے۔ اسلام ضرور اتحاد کو پسند کرتا ہے اور اختلاف و افتراق کو مذموم و نا پسند فرماتا ہے مگر اسلام کو وہی اتحاد پسند ہے جو دین و مذہب کی بنا پر ہو۔ قال تعالى: "وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (1) اور وہ اتحاد خدا و رسول کو ہرگز پسند نہیں جو دین کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ دین کو ڈھائے اور نیا دین بنائے۔ اس لئے قرآن کریم نے بدمذہبوں پر شدت کی ترغیب دی اور اس کا حکم فرمایا۔ قال تعالى: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَ الَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ - الآية (1) نیز فرماتا ہے اللہ تعالى: "وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً "" نیز فرمایا: "وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (۳) یہاں سے ظاہر کہ مضمون نگار کا یہ اعتراض علماء پر نہیں بلکہ خدا پر اور اس کے رسول پر ہے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ دیوبندی نے خدا اور رسول جل وعلا کی تو ہین لکھیں، چھاپیں اور ان تو ہینوں کے سبب علمائے حرمین شریفین کے فتاوی کے بموجب ایسے کافر ہوئے کہ جو اُن کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے تو وہ ہم میں سے نہ رہے اور جب وہ ہم میں سے نہ رہے تو ہم مسلمانوں کا اتحادان سے کیونکر ہو سکتا ہے؟ کہ ان کی راہ الگ اور ہماری الگ اور اتحاد تو ہم مذہب و ہم خیال سے ہوتا ہے اور ایسے سے اتحاد کی ٹھہرانا جو سخت اختلاف اور شدید افتراق رکھتا ہے، مذہب سے تو بدتر ہے ہی ، اپنی عقل سے بھی دشمنی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ جمادی الآخر ۱۳۹۶ھ (1) سورة الفتح ۲۹ (۲) سورة التوبة : ٢٣ (۳) سورة التوبة: ۷۳