کافر کو کافر کہنا اللہ و رسول کے فرمان کے مطابق ہے اور اس کے خلاف منسوب حدیث جھوٹ ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ (1) فخر کائنات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہدایت فرمائی ہے کہ کافر تک کو کافر نہ کہا جائے کہ خدا جانے کب اس پر رحمت باری کا نزول ہو اور وہ ایمان لے آئے ۔ یہ بات کہاں تک صداقت پر مبنی ہے؟ کیا ایسا گمان رکھنا صحیح ہے؟ کیا اس متن کی کوئی حدیث شریف موجود ہے یا اس سے متعلق کوئی حدیث شریف کو تو ڑمروڑ کر نام نہاد علماء ودانشور اپنے جذبہ کی تسکین کی خاطر غلط مطلب بیان کر کے عوام کو گمراہ کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ برائے مہربانی جوابات صحیحہ مع حوالوں کے دینے کی زحمت فرمائیں۔
الجواب: مندرجہ بالا مضمون صریح فریب اور سفید جھوٹ ہے جو اس نے ہادی برحق سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر باندھا ہے۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام پر آیت کریمہ قل یایھا الکافرون‘ نازل ہوئی جس میں صاف سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کو حکم ہوا کہ اے محبوب تم فرماؤ اے کافر و! اور ایک اسی آیت پر بس نہیں ، متعدد آیات و احادیث میں کافروں، منافقوں سے تبری و بیزاری اور ان کی صیح و تشنیع بیان فرمائی گئی، بلکہ سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام المدار نے ان بدمذہبوں سے بھی تبری و بیزاری کی تلقین فرمائی جو حد کفر تک نہ پہنچے، وہ قدر یہ ایک فرقہ اسلامیہ تھا جسے سرکار نے فرمایا کہ یہ لوگ اس امت کے مجوسی ہیں، یہ لوگ تقدیر الہی کے منکر تھے، انہی کے لئے سرکار علیہ السلام نے فرمایا: لا تجالسوهم ولا تؤاكلوهم ولا تشاربوهم ولا تناكحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم (1) ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ مت کھاؤ پیو، ان سے شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ یہ ارشاد نظر نہ آیا تو اس رحیم و کریم رب غفور و قہار کا یہ ارشاد اشداء علی الکفار بھی نہ سنا یعنی مسلمان کافروں پر سخت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم دل ہیں اور کچھ نہیں تو اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالین کا ترجمہ تو ہر ادنیٰ پڑھالکھا مسلمان جانتا ہے جس میں یوں دعا کی تلقین فرمائی گئی کہ اے اللہ ہمیں سیدھا رستہ چلا، راستہ ان کا جن پر تو نے اپنا احسان فرمایا نہ ان کا جن پر غضب ہوا، نہ گمراہوں کا ۔ غرض اس جملہ میں کافر کو کافر کہنے سے ممانعت کی شرعی کوئی وجہ نہیں، کافر کو کافر جانا ایمان ہے اور اسے کافر کہنا عین حکم خدا اور سول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تعمیل ہے اور اس کا خلاف صریح گمراہی و بید ینی بلکہ یہ کہنا خود ماننا اور اسے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے سر دھر نا جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنانا ہے۔حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد ہے: من کذب علی متعمدا فليتبؤ مقعدہ من النار (۲) جو مجھ پر دانستہ جھوٹ باندھے، اپنا ٹھکانہ جہنم میں بتائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹؍ جمادی الاخری ۱۴۰۷ھ فی الواقع جواب صحیح ہے۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی