کفار کے میلوں میں جانا، خرید و فروخت، تلاوت میں معروف و مجہول اور ماں کی نافرمانی کرنے والے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل کے بارے میں کہ (1) ہمارے یہاں جنم اشٹمی کے موقع پر ایک میلہ لگتا ہے جس میں ہر طرح کے سامان کی مسلمان و ہند وسب ہی مشتر کہ دکانیں لگاتے ہیں، کوئی مسلمان اس میلہ میں خرید وفروخت کے سلسلے میں یا اپنے کسی مسلمان ساتھی کی دکان پر جس طرح بازار جاتے ہیں، اس طرح چلا جائے ،میلہ کے کھیل تماشوں سے کچھ مطلب نہ رکھے تو اس کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟ (۲) آج کل قصبہ و دیہات میں اکثر حفاظ کرام قرآن شریف کی تلاوت نماز تراویح میں مجہول کرتے ہیں،معروف سے ناواقف ہیں۔ زید کہتا ہے کہ تلاوت معروف ہونا چاہئے کیونکہ مجہول سے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ کیا زید کا قول درست ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہزاروں نمازیں خراب ہوتی ہیں۔ (۳) زید اپنے والد سے دو بھائی ہیں، زید کے والد کا انتقال جب زید چھوٹا سا ہی تھا، ہو گیا۔ زید کے والد نے زندگی ہی میں اپنا مکان زید کی والدہ کے نام کر دیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد زید کی والدہ نے دوسرا نکاح کر لیا۔ دوسرے شوہر سے بھی دولڑکے ہوئے۔ جب چاروں لڑکے جوان ہو گئے ، زید کی والدہ نے نصف مکان زید کے نصف زید کے سوتیلے بھائی کے نام کر دیا۔ زید کہتا ہے پورے مکان کے مالک ہم تھے، ہماری والدہ نے حق تلفی کی ہے جس کی وجہ سے زید نہ تو اپنی والدہ کے کھانے پینے کا خیال کرتا ہے، نہ ان سے بولتا ہے، ان کا کوئی حق ادا نہیں کرتا، نہ خبر گیری کرتا ہے۔ بلکہ بہت زیادہ برا بھلا کہتا سخت بے ادبی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ایسی حالت میں زید کو امام بنانا، اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ جواب سے جلد نوازیں۔ المستفتی: حافظ شجاعت حسین محلہ دہلیز قصبہ سہسوان ،ضلع بدایوں
الجواب: (۱) ہندؤں کے تیوہاروں کے موقع پر خرید و فروخت اگر ان دنوں کی تعظیم کے قصد سے ہو جب تو معاذ اللہ کفر ہے اور اگر یہ قصد نہ ہو جب بھی اس قدر تو ضرور ہے کہ ان دنوں میں کفار کے ساتھ خوشی منانے کا شائبہ ہے اور ان دنوں کی تعظیم کی تہمت سے آلودہ ہونا ہے اور تہمت سے بچنا ضرور کہ حدیث میں ہے: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يقفن مواقف التهم (1) جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھے وہ تہمت کے مقام پر ہر گز کھڑا نہ ہو۔ لہذا ان دنوں میں خرید وفروخت وغیرہ سے احتراز ہی لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مجہول نہ پڑھنا چائے مگر مجہول پڑھنا حن جلی نہیں جس کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ٹھہرے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) زید کو ماں کے ساتھ بد سلو کی حرام ہے، بد کام بدانجام ہے۔ اگر واقعی وہ ماں کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتا ہے تو امامت کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم