ہندوستان میں بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم اور ہندوستان کی شرعی حیثیت
کے یعنی بریلی شریف (ہندوستان) کے کفار حربی ہیں اور انہی کے قبضے میں یہاں کی گورنمنٹ، بینک اور ڈاکخانے ہیں لہذا ان کے بینک یاڈا کھانے میں جمع شدہ رقم پر جو زائد ملتا ہے وہ سود نہیں، اس کا لینا مسلم کے لئے مباح ہے۔ انہی کے قبضے میں یہاں کی گورنمنٹ کے بینک، ڈاکخانے ہیں“ یہ عبارت دلیل ہے اس امر کی کہ حربی کفار کے قبضے میں دارالحرب ہی کی گورنمنٹ، بینک و ڈاکخانے ہیں، دارالاسلام کے نہیں۔ کتب دینی میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دو مسلمان اور حربی میں دارالحرب کے اندر ر با ثابت نہیں ہوتا۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ اتنے تمام شرعی ثبوت جو ایک مفتی اسلام نے اپنے جواب بالا میں تحریر فرمائے ہیں، ان کو غلط سمجھا جائے یا یہاں یعنی بریلی شریف (ہندوستان ) کو دارالحرب مانا جائے دیگر قوانین شرعیہ حربہ بھی مانے جائیں، کیا حکم ہے شرع شریف کا ؟ فقط سائل: صغیر احمد صاحب، چھاؤنی اشرف خاں، بریلی شریف
الجواب: مفتی مذکور نے صحیح لکھا، بلا شبہ ہندوستان کے کفار حربی ہیں، ان سے جو زیادتی ملے وہ خالص مباح ہے، اسے سود سمجھنا جائز نہیں کہ سود مسلم اور مسلم یا مسلم اور ذمی کافر کے درمیان ہوتا ہے،حربی اور مسلم کے درمیان سود متحقق نہیں ہوتا اور ہندوستان محمدہ تعالیٰ دارالاسلام ہے، بایں معنی کہ یہاں پہلے اسلامی حکومت تھی اور آج بھی بفضلہ تعالیٰ شعائر دینی مثل اذان و نماز، جمعہ وعیدین قائم ہیں اور مسلمان اپنے معاملات نکاح حسب شریعت مطہرہ اور حدیث و کتب فقہ میں جو فی دار الحرب“ کی قید ذکر کرتے ہیں اتفاقی ہے نہ کہ احترازی ہے، بایں معنی پہلے یہ صورت متفق نہ تھی یا تھی تو بہت نادر تھی ، دارالاسلام میں حربی کا فریعنی وہ جو حکومت اسلامیہ کو جزیہ نہیں دیتے مقیم ہوں ہاں عہد عالمگیری میں یہ صورت رونما ہوئی چنانچہ ملا احمد جیون تفسیر احمدیہ میں فرماتے ہیں: ان هم الاحربي )) دیکھو اس وقت کے کفار بھی حربی تھے مگر ہندوستان دارالاسلام تھا اور اسی طرح سے اب بھی ہندوستان دارالاسلام ہے، اس جہت سے کہ شعائر دینی یہاں قائم ہیں اور کفار حربی ہیں اس لئے ان سے جو زیادتی ملے وہ خالص مباح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور یہ حکم حربی من حیث حربی کا ہے، عام ازیں کہ دارالحرب ہو یا دارالاسلام کہ وہ دارالاسلام میں ہو کر حربی ہوتے ہیں نہ نکل گیا، ہاں حربی اگر حربی مستامن ہو یعنی بہ امان دار الاسلام میں آئے ، اس سے بدعہدی یا سود لینا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب تحسین رضا غفرلہ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله محمد خلیل الرحمن رضوی لقد اصاب من اجاب دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی