درسی کتب میں اسم محمد کا عام جملوں میں استعمال اور اس کی شرعی حیثیت
بعد الت جناب محتسب اعلیٰ جناب جسٹس سردار اور اقبال صاحب! اسلام آباد جناب عالی! بعنوان : نام نامی اسم گرامی محمد کو عام بول چال اور فقرات میں استعمال کرنے کی گھناؤنی اور توہین آمیز سازش۔ عالی جاہ! آج کل اسکولوں میں عربی نصاب کی جو کتا میں پڑھائی جا رہی ہیں اس میں اسم محمد کو عام فقروں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ پنجاب اسلام آباد، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات لا زمی عربی کی کتاب برائے جماعت ششم تیار کردہ مفاتی وزارت تعلیم حکومت پاکستان کوڈ نمبر 17-G پڑھائی جارہی ہے، بنام افتہ اسلام برائے چھٹی جماعت، اس کے صفحہ نمبر ۳ ر پر یہ تصویر فقرہ ہے محمد من پاکستان ص نمبر ۵۴ / پر فقر محمد فتح کتاب ص نمبر ۵۶ میں محمد مجلس علی الارض ، دھل محمد يفتح مختلفتہ صلح نمبر ۵۷ پر " محمد بقر " کتاب میں ایسے ہی کئی فقرات اور بھی ہیں۔ کیا یہ فعل ہے ادبی میں
سئله ۲۶ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو! بعد الت جناب محتسب اعلیٰ جناب جسٹس سردار اور اقبال صاحب! اسلام آباد جناب عالی! بعنوان : نام نامی اسم گرامی محمد کو عام بول چال اور فقرات میں استعمال کرنے کی گھناؤنی اور توہین آمیز سازش۔ عالی جاہ! آج کل اسکولوں میں عربی نصاب کی جو کتا میں پڑھائی جا رہی ہیں اس میں اسم محمد کو عام فقروں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ پنجاب اسلام آباد، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات لا زمی عربی کی کتاب برائے جماعت ششم تیار کردہ مفاتی وزارت تعلیم حکومت پاکستان کوڈ نمبر 17-G پڑھائی جارہی ہے، بنام افتہ اسلام برائے چھٹی جماعت، اس کے صفحہ نمبر ۳ ر پر یہ تصویر فقرہ ہے محمد من پاکستان ص نمبر ۵۴ / پر فقر محمد فتح کتاب ص نمبر ۵۶ میں محمد مجلس علی الارض ، دھل محمد يفتح مختلفتہ صلح نمبر ۵۷ پر " محمد بقر " کتاب میں ایسے ہی کئی فقرات اور بھی ہیں۔ کیا یہ فعل ہے ادبی میں شامل نہیں ہے؟ کیا یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی اسم گرامی کے ساتھ مذاق نہیں ہے؟ کیا ایسا فعل کر کے مصنف نے نئی نسل کے ذہنوں میں احترام مصطفیٰ اور مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرانے کی سازش نہیں کی؟ خطہ ارض پر قائم والے ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہے جو کہ ایک خالص اسلامی نظریے قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا۔ کیا پاکستان ایسے نظریاتی ملک میں اس قسم کی حرکت ان سعودی ذہن رکھنے والے نام نہاد مسلمانوں کی نہیں جنہوں نے بیشتر زرین حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے ناموں ، زید عمر ، بکر ) کو عام بول چال میں استعمال کروا کر بے وقعت کرنے کی سازش کی تھی۔ کیا پاکستان ایسے نظریات ملک میں ایسی توہین آمیز تحریر جو نا پختہ ذہنوں میں اپنا زہر گھول رہی ہے، کیا ایسے مصنفوں کے ذہن بعض محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نشان دہی نہیں کرتے ؟ کیا محکمہ تعلیم کے ارد گرد ایسے لوگوں نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے؟ کیا پاکستان میں ایسی گستاخانہ تحریروں پر باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے؟ کیا پاکستانی مسلمان ایسے ناپاک اور گندے ذہن رکھنے والوں کا محاسبہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں؟ کیا ایسا مسلمان مومن ہوسکتا ہے؟ بفرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے ماں باپ، اولاد، جان ، مال کے مقابلہ میں مجھ سے زیادہ پیار نہ کرے۔ کیا ایسی تحریروں سے پیار چھلکتا ہے؟ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و مسلم تیرے ہیں کئی ایک لوگ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اکثر بزرگوں نے اپنے بچوں کا نام محمد رکھا۔ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی اور مولانا سردار احمد خاں محدث لائل پوری نے اپنے بچوں کے نام محمد رکھے۔ ٹھیک ہے، میں مانتا ہوں اور جواب میں عرض گزار ہوں کہ ان سب لوگوں کے نام خیر و برکت کے لئے رکھے گئے مانتا ہوں ان میں کوئی حسن رضا خاں اور مصطفیٰ رضا خاں اور کوئی صاحب زادہ فضل الرسول کے نام سے پہچانے گئے اور پکارے گئے بڑا ہونے کے بعد کوئی بچہ اے محمد، اومحمد، یا محمد کے نام سے نہیں پکارا گیا۔ مثال کے طور پر محمد غزنوی اور ان کے غلام ایاز کی دوستی ضرب مثل ہے، ایاز کے بیٹے کا نام تھا ایک مرتبہ محمود غزنوی نے اس کو بجائے نام کے اور ایاز کے بیٹے کہہ کر پکارا تو ایاز جو پاس ہی موجود تھا، تڑپ کر فریادی ہوا اور سوال کیا کہ آپ نے اس کو نام کے بجائے ایسے کیوں پکارا؟ محمود غزنوی نے جواباً فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ اس کا نام محمد ہے مگر اس وقت میرا وضو نہیں ہے۔ میں بغیر وضو محمد نام لینا ہے ادبی سمجھتا ہوں ۔ عالیجاہ! سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محمود غزنوی جاہل تھا ؟ نا سمجھ تھا جو اپنے غلام کے بیٹھے کا نام لینے کے لئے باوضو ہونا ضروری خیال کرتا تھا ؟ نہیں نہیں، وہ جانتا تھا کہ میرے اور سب کے آقا و مولی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی محمد ہے۔ عالی جاہ! غور فرما ئیں کہ اللہ کے نانوے نام مشہور ہیں، ان میں اٹھانوے نام کوکسی نہ کسی طرح بندوں کے ناموں کے طور پر بندوں کو پکارنے میں استعمال ہوتے ہیں مگر ان سب میں ایک نام اللہ جل جلالہ صرف ایسا نام ہے جو آج تک نہ کسی آدمی نے اپنے بچے خواہ خیر و برکت ہی کے نظریہ کے تحت ہی کیوں نہ ہو، نہیں رکھا اور نہ ہی یہ نام کسی بندے کی پہچان کے طور پر پکارا گیا۔ عالی جاہ! مندرجہ بالا حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں آپ کی ذات سے پر امید ہوں اور محبوب اعلی پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے کی بنا پر پر زور الفاظ میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ اس سارے معاملہ پر کمل غور وخوض فرما ئیں اور مناسب کارروائی فرما دیں۔ لمستفتی: محمد انور بجاج ولد بشیر احمد قوم شیخ ساکن دار برٹن ضلع شیخو پورلاہور، ( پاکستان ) الجواب: تحریر ملاحظہ ہوئی، صورت مسئولہ میں مدار حکم نیت پر ہے ، معاذ اللہ نیت اگر اہانت کی ہے تو حکم بہت سخت ہے مگر بلاوجہ شرعی محض سو طن سے مسلم کی طرف فسق و کفر کی نسبت خود بہت سخت ہے۔ در مختار میں ہے: ”انا لا نسئى الظن بالمسلم - الخ )) شرح فقہ اکبر واحیاء العلوم میں ہے: لا يجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق (۲) (۱) الدر المختار كتاب الذبائح ، ج ۹، ص ۴۴۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) منح الروض الازهر شرح الفقه الاکبر ۸۷، مکتبه تهانوی لہذا مصنف کتاب پر بے اطلاع نیت حکم نہیں ہوسکتا۔ البتہ نام نامی کا احترام چاہئے ۔ حدیث شریف میں ہے: اذا سميتم الولد محمدا فاكرموه و اوسعواله في المجلس ولا تقبحواله وجها ) جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو اور اس کے لئے مجلس میں جگہ کشادہ کرو اور اسے برائی کی طرف نسبت نہ کرو یا اس پر برائی کی دعا نہ کرو۔ اور شک نہیں کہ ادب اس نام ہی کا ہے تو بہتر یہی ہے کہ اس نام کی صیانت کی جائے اور عام محاورات میں نام نہ لیا جائے۔ اسی لئے ادب شناسوں کا یہ طریقہ ہے کہ نام محمد رکھتے ہیں اور پکارنے کے لئے دوسرا نام رکھتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ شوال المکرم ۱۴۰۴ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم