کعبہ کی تعمیر، مزارات کا غسل، حضرت آدم کا قصہ، زلزلے کی وجہ اور وحی کا واقعہ
کعبہ مکرمہ کی عمارت کن کن بزرگوں نے بنائی؟ مکرمی مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته (1) کعبہ شریف کی بنیاد کن پیغمبروں نے ڈالی؟ اور کب کب اسکی مرمت ہوئی ؟ اور مکمل کن پیغمبر نے کیا؟ اور جنت سے کتنے پتھر آئے؟ اور کعبہ میں کہاں کہاں نصب کیا گیا؟ کن کن پیغمبروں نے نصب کیا؟ (۲) مزارات اولیاء اللہ اور شہید کی قبر کو نسل دینا حدیث پاک سے ثابت ہے کیا ؟ (۳) حضرت آدم علیہ السلام زمین پر کتنے سال تک روتے رہے؟ کتنے سال بعد تو بہ قبول ہوئی ؟ (۴) زمین پر زلزلہ کیسے آتا ہے اور کیوں آتا ہے؟ (۵) جبرئیل سے حضور نے پوچھا: میرے پاس کیوں آتے ہو؟ جبرئیل نے عرض کیا: وحی لے کر ۔ رسول اللہ نے فرمایا : وحی دینے والے کو دیکھا؟ عرض کیا نہیں، ایک طاق ہے اس پر پردہ پڑا ہے اور طاق ہی سے وحی ملتی ہے، وہ لے کر آتا ہوں۔ حکم ہوا : آج طاق کے قریب جانا، پردہ ہٹا دینا، جبرئیل اس وقت وحی لینے گئے عرش پر جس وقت اللہ کے محبوب عمامہ سر مبارک پر باندھنا شروع کیا، عرش پر پہنچ کر جبرئیل قریب طاق گئے، پردہ ہٹایا، ایک آئینہ دیکھا، عمامہ زمین پر باندھا جارہا ہے مگر عرش اعظم پر آئینہ میں نظر آ رہا ہے۔ جو صورت ادھر وہی صورت اُدھر ۔ کیا حدیث شاہد ہے؟ یہ سوال بھی اسی جواب میں لگا رہنے دینا، الگ سے نہ کرنا تا کہ سوال کرنے والے کو دکھا سکوں ۔ فقط ۔ والسلام علیکم المستفتى : حبيب على
الجواب: (۱) کعبہ معظمہ کو سب سے پہلے ملائکہ کرام نے بنایا پھر سید نا آدم علیہ السلام پھر سید ناشیث علیہ السلام پھر بعد طوفان نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام نے ، پھر عمالقہ، پھر جرہم اور ان کے بعد قصی بن کلاب اور قریش نے پھر سید نا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بنیاد ابراہیم پر بنایا اور سب سے آخر میں حجاج بن یوسف ثقفی نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کیا اور کعبہ معظمہ پر سنگباری کی اور کعبہ معظمہ کو بنیاد قریش پر بنایا تو بانیان کعبہ دس ہوئے۔صاوی میں ہے: بنى بيت رب العرش عشر فخذهم - ملائكة الله الكرام و آدم فشيث فابراهيم ثم عمالق - قصى قريش قبل هذين جرهم و عبـد الالـه بـن الـزبـيـر كـذا - بناء لحجاج و هذا متمم (1) حجر اسود سیدنا آدم علیہ السلام سے لائے تھے ، اسی طرح مقام ابراہیم بھی سیدنا آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے آیا [صادی ] ۔ باقی پتھروں کی تفصیل معلوم نہیں اور حجر اسود کو اس کے محل معروف میں حضور علیہ السلام نے رکھا [ صاوی]۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس خصوص میں کوئی حدیث وارد نہیں اور ممانعت بھی کسی حدیث میں نہ آئی اور بزرگوں کے منسوبات سے تبرک اور ان کا معظم ہونا آیات واحادیث سے ثابت ہے اور یہ عمل بھی اہل سنت کے تبرک کے لئے رائج ہے۔ لہذا مستحسن ہے۔ حدیث میں ہے: مارآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن (۲) جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے۔ تفصیل کیلئے اعلیحضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ مبارکہ انہار الانوار فی ادب الآثار دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تین سو برس ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) زلزلہ کا سبب خاص جلال الہی کی تجلی ہے اور یہ تجلی پہلے بہت ہوتی تھی پھر اللہ نے اس میں پہاڑ پیدا فرما دیے اور وہ خاص تجلی مجوب فرمادی تو زمین قرار پکڑ گئی ۔ قیامت کے قریب پھر یہ تجلی زیادہ ہو جائے گی تو زلزلے زیادہ آئیں گے یہاں تک کہ زمین پر جو کچھ ہے ، فنا ہو جائے گا۔ بعض ارباب کشف نے ایسا فرمایا اور حدیث سے بھی یہ مؤید ہے۔ ابریز شریف میں سید نا عبدالعزیز دباغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: سبب زلزلة الارض تجلى الحق سبحنه لها قال رضى الله تعالى عنه ثم هذا التجلى كان كثيرا في اول خلق الارض وقبل خلق الجبال فيها فكانت تضطرب و تميل ثم حجبها جل و علا و خلق الجبال فسكنت وفى آخر الزمان يكثر هذا التجلى ايضاً فلا تزال الارض تكثر فيها الزلال والرجفات حتى يبيد من عليها - الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) یہ روایت بے اصل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیرمحمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۳۰ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ