وقت شہادت انگلی کب اٹھائی جائے، انگلی کے اشارے کی کیفیت اور لفظ اللہ کے لیے واحد یا جمع کا استعمال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ (1) جس وقت التحیات بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور انگشت شہادت کو اٹھا کر انگلیاں سیدھی کر لیتے ہیں، یہ صحیح ہے تو کس حدیث کے ذریعہ یا قرآن کی کس آیت کے ذریعہ؟ کس امام سے تعلق ہے؟ (۲) ایک صاحب جناب عبد السلام اور صغیر احمد وشوکت صاحب کا کہنا ہے کہ حسب بالا غلط ہے مٹھی یعنی انگلیاں سمیٹ کر انگلی شہادت کو پیر پر ٹیڑھی کر کے رکھے رہنا چاہئے ، یہ صحیح ہے تو کس حدیث کے ذریعہ یا قرآن پاک کی کس آیت کے ذریعہ؟ کس امام سے تعلق ہے؟ (۳) ایک صاحب فہیم خاں اللہ کو ہر بات میں لفظ ہیں استعمال کرتے ہیں، میں کہتا ہوں اللہ ” ہے کہو، اللہ اکیلا ہے، کیا کہنا چاہئے؟ برائے کرم اس کا جواب صاف صاف تفصیل کے ذریعہ تحریر کر کے فوری ارسال کریں۔ نوازش ہوگی ۔ فقط المستفتی : جمیل احمد خاں الیکٹریشن، محمد بن لادن ،، پوسٹ بکس نمبر ۳۳۵۲، مکہ المکرمہ، کے۔ایس۔اے
الجواب: (۲۰۱) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لهی اشد على الشيطان من الحديد يعني السبابة (1) انگلی سے اشارہ کرنا شیطان پر لوہے سے زیادہ سخت ہے۔ اسی لئے ہمارے ائمہ اعلام فقہائے احناف نے اپنی کتب میں تشہد میں اشارہ کو سنت بتایا۔ مراقی الفلاح میں ہے: دو وتسن الاشارة في الصحيح لأنه صلى الله عليه وسلم رفع اصبعه السبابة وقد احناها شيئا بالمسبحة عند الشهادة “(۲) (1) (۲) مشكوة المصابيح باب التشهد الفصل الثالث، ج ۱، ص ۸۵ مجلس برکات مراقی الفلاح مع حاشية الطحطاوى، كتاب الصلوة، فصل فی بیان سننها، ص ۲۶۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت طحطاوی میں ہے: قال الزاهدى فى المجتبى لما اتفقت الروايات عن اصحابنا جميعا في كونها سنة و كذا عن الكوفيين والمدنيين وكثرة الاخبار والآثار كان العمل بها اولیٰ کما فی الحلبی و ابن امیر حاج اور ہمارے علمائے حنفیہ قدست اسرار ہم الزکیۃ نے کیفیت اشارہ یہ بتائی کہ لا الہ پر انگلی اٹھائے اور الا اللہ پر گرا دے۔ اسی مراقی الفلاح میں ہے: يرفعها اى المسبحة عند النفى أى نفى الألوهية عما سوى الله تعالى بقوله لا اله ويضعها عند الاثبات اى اثبات الالوهية لله وحده بقوله الالله ليكون الرفع اشارة الى النفى والوضع الى الاثبات یہاں سے ظاہر کہ اشارہ مذکورہ صرف ہنگام تلفظ بہ لا الہ الا للہ مسنون ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد بلکہ خلاف سنت ہے کہ احادیث اشارہ اسی وقت میں ثابت ہے اور اس کے بعد یا پہلے ثابت نہیں تو بعد میں انگلی کو ٹیڑھا رکھنا بے حاجت اور خلاف سنت ہے کہ سنت یہ ہے کہ جلسہ میں ہاتھوں کی انگلیاں رانوں پر پھیلی ہوئی رکھی رہیں۔ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: وو و العقدوقت التشهد فقط فلا يعقد قبل ولا بعد وعليه الفتوى اسی میں ہے: وقال في الشرح: ويسن بسط اليدين على الفخذين () واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے اس باب میں ہمارا مفصل فتویٰ جو ہمراہ روانہ ہے، ملاحظہ ہو۔ (۱) حاشية الطحطاوي على مراقی الفلاح، فصل فی بیان سننها، ص ۲۶۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوى، كتاب الصلوة، فصل فی بیان سننها، ص ۲۷۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) حاشية الطحطاوي على مراقی الفلاح، فصل فی بیان سننها، ص ۲۷۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) حاشية الطحطاوي على مراقی الفلاح ، فصل فی بیان سننها ، ص ۲۷۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) فی الواقع بلاشبہ اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے، اس کیلئے صیغہ افراد مناسب ہے کہ موافق اعتقاد ہے اور جمع کا صیغہ نہ بولنا چاہئے کہ مشعر تعدد ہے اور مخالف اعتقاد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ چراغ عالم عفی عنہ ۲۶ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ مدرسه اہل سنت اجمل العلوم سنبھل ، ضلع مراد آباد (یوپی)