ایک سید صاحب کے غیر شرعی افعال اور گستاخانہ کلمات کے متعلق سوال
ایک سید صاحب ہیں، مندرجہ ذیل باتیں گاؤں والوں سے بارہا کہتے ہیں، ایسے کہنے والے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۱) مسجد سے قسم کھائی کہ مسجد میں جاؤں تو باپ کے پیشاب سے پیدا نہیں ۔ (۲) یہاں کے مسلمان نہیں ہیں، یزید خاندان سے ہیں اور بھنگی چمارا چھے ہیں۔ (۳) گاؤں میں مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندولوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ (۴) جو مسلمان سید صاحب کی طرف ہیں چار چھ ان سے منع کر دیا مسجد میں آنے کے لئے ۔ (۵) مسجد میں نماز جماعت سے ہو رہی تھی، امام صاحب کو تین دن کے لئے پولیس کی حراست میں کر دیا رمضان شریف کے مہینہ میں اور کہا کہ اب پڑھو جماعت سے نماز ۔ (۶) سید صاحب نے کہا: ایسی مسجد کو میں مسجد نہیں سمجھتا، جانوروں کی سال اچھی ہے۔ (۷) پیری مریدی کو طاق میں رکھ دیا ، الیکشن لڑانے لگے ہندؤں کی طرف سے۔(۸) ہمارے علماء کو برا کہا کہ کون گھاس ڈالتا ہے۔ (۹) ہندو لوگ سید صاحب کے گھر میں اندر آ کر بیٹھتے ہیں، رات کو اور دن کو سید صاحب ان کے گھر جا کر بیٹھتے ہیں، رات میں اور دن میں ۔ (۱۰) گاؤں میں ایک شخص بغیر نکاح بیوی رکھتا ہے،قریب ایک سال سے سید صاحب اس کا ساتھ دے رہے ہیں ، وہ ہمارے کہنے کو نہیں مانتا، سید صاحب نے جنتا پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑایا، کہتے ہیں میں کسی سے نہیں ڈرتا، میری پہنچ دہلی تک ہے، میرا جی ڈی ای تک، کانگریس کے لوگوں کو اب مجھے دیکھنا ہے، بیچ میں ہیں، سید صاحب بریلی سے سلسلہ بیعت بھی ہیں اس لئے ہم لوگ سید صاحب سے پیر بھائی کا سلسلہ بھی رکھتے ہیں ۔ (۱۱) سید صاحب ایک عورت کہیں سے لائے اور ایک شیص سے ایک ہزار روپیہ لے کر اس عورت کو اپنے گھر رکھا، قریب چھ ماہ تک ، پھر اس کے بعد نکاح کروادیا جس سے روپیہ لیے تھے، اسی کے ساتھ ۔ (۱۲) سید صاحب سے کہا گیا آپ نماز پڑھادیجئے اور مسجد میں امامت کر لیجئے ، کہا میں امامت نہیں کرونگا ، امامت کو جوتے کی نوک پر مارتا ہوں، میرا کام امامت کرنے کا نہیں ہے۔ (۱۳) سید صاحب کہتے ہیں مسجد میں میرے جانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میرے نانا کا ممبر مسجد میں موجود ہے، پہلے نانا مجھے دیکھیں گے بعد میں امت کو ۔ کیا ایسے سید صاحب سے کوئی حساب اللہ تعالیٰ نہیں لے گا ؟ (۱۴) سید صاحب کتنے بھی مسلمان بیٹھے ہوں ، سلام علیکم نہیں کرتے اور ہند و اگر دوبھی بیٹھے ہوتے ہیں تو نمستے کرتے ہیں اور آداب کرتے ہیں۔ (۱۵) سید صاحب نے کہا جس کو چاہوں جنت دلوادوں، نہ چاہوں نہ دلواؤں،
الجواب: شخص مذکور کی طرف سوال میں جن باتوں کی نسبت کی گئی ہے وہ سخت ہولناک، نہایت بُری ہیں، اگر یہ واقعہ ہے کہ مذکور سے وہ باتیں صادر ہوئیں تو سخت گناہ گار ہیں، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں اور یہ کہنا کہ ”تم سے اچھے میرے لئے ہندو معاذ اللہ کفر ہے، اور یہ کہ امامت کو جوتے کی نوک پر مارتا ہوں امامت کی توہین ہے، اس کا بھی وہی حکم ہے، مذکور پر تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح جبکہ بیوی رکھتے ہوں، لا زم ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی