حافظ کا رمضان میں قرآن نہ سنانے، مسجد سے نکالنے، فاتحہ خوانی کرنے والوں کو وہابی کہنے اور امرد کی امامت کا حکم
بعد ادائے آداب التماس ہے کہ مندرجہ ذیل استفتاء کا جواب دینے کی تکلیف گوارہ فرمائیں۔ آپ کی عین نوازش ہوگی ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین : (1) زید جامع مسجد میں پیش امام ہے اور قاری و حافظ قرآن بھی ، لیکن رمضان شریف میں کسی بھی مسجد میں قرآن پاک نہیں سناتا۔ گزشتہ سال وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال میں ضرور قرآن پاک سناؤں گا جو نہیں سنا یا معلوم ہوا کہ حفظ بھول گئے ہیں۔ اگر یا د ہوتے ہوئے وعدے کے مطابق نہیں سنا یا تو کیا حکم ہے؟ اور یاد نہیں قوم کو دھوکہ دے رہا ہے تو کیا حکم ہے؟ (۲) جامع مسجد میں کچھ مسلمانوں کو وہابی کا فر کہہ کر نماز جمعہ نہیں پڑھنے دیتے بلکہ ایک مسلمان کو مولوی عزیز الدین جعفری نو عمر ہیں لات مار کر مسجد سے باہر نکال دیا مسجد سے باہر نکالنے میں بہت لوگوں نے ساتھ دیا جو مذہب سے واقف نہیں اس کے علاوہ شہر کی اور بھی مسجدوں سے نمازیوں کو نکالا گیا۔ پیش امام صاحب جامع مسجد یہ سب حرکتیں دیکھتے رہے منع نہیں فرمایا۔ (۳) کچھ مسلمان بھائی جن کے یہاں ہر ماہ دو مرتبہ ان کے پیر میرے دادا پیر نیز جمله بزرگان دین کی فاتحہ ہوتی ، میلاد شریف ہوا کرتا ، ان کو بھی وہابی کہا جارہا بلکہ ان سے سلام و قیام کرنے والوں کو منع کیا جاتا کیا یہ طریقہ مناسب ہے؟ یہاں تک کہ لڑکالڑکیوں کی شادیوں میں بھی رکاوٹ ڈالی جارہی ہے بلکہ شادیاں نہیں ہو سکیں، اس پر انہیں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ قوم سے معافی مانگو ورنہ تمہاری موت مٹی بند رہے گی کیا یہ طریقہ درست ہے؟ (۴) ایک لڑکا نو عمر حافظ قرآن ہے اس کے چہرے پر بال نہیں آئے۔ کیا فرض نماز میں پیش امامت کر سکتا ہے؟ برائے کرم جواب جلد از جلد دینے کی تکلیف گوارہ فرمائیے۔ المستفتی: سعید احمد ،ایس کنڈکٹر نیا محلہ ضلع چھتر پور
الجواب: (1) حافظ کو قرآن سنانا واجب نہیں لہذا اگر وہ نہ سنائے تو دھو کہ باز نہ قرار پائیگا۔ بلا ثبوت شرعی کسی کی طرف دھو کہ خواہ کسی گناہ کی نسبت جائز نہیں۔ البتہ اگر حافظ نے وعدہ کیا تھا اور کوئی عذر مانع نہ تھا تو ان پر ایفائے وعدہ لازم تھا اور اگر کوئی عذر صحیح مقبول تھا تو ان پر الزام نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳۲) فی الواقع اگر وہ لوگ دیوبندیوں ، وہابیوں کو ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہونے کے بعد مسلمان جانتے ہیں یا ان کے کفر میں شک کرتے ہیں تو دیوبندیوں وہابیوں کی طرح کا فربے دین ہیں، ان کی نیاز وفاتحہ کا اعتبار نہیں اور ان کا نکاح کسی سے درست نہیں ۔ بصورت دیگر حکم دیگر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) کر سکتا ہے جبکہ بالغ ہو اور صحیح القرآة غیر فاسق معلن مسائل نماز وطہارت سے واقف ہو۔ واللہ تعالی اعلم مسئلہ ۴ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۸ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ / در سفر